.

24 نومبر تک جوہری معاہدہ ناممکن: ایران

معاہدہ طے نہ ہوا تو مذاکرات میں ایک سال تک توسیع کا امکان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ویانا میں ایران کی عالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری پروگرام پر تنازعے کے حل کے لیے مذاکرات کرنے والی ٹیم نے کہا ہے کہ طرفین کے درمیان پہلے سے طے شدہ ڈیڈلائن کے مطابق 24 نومبر تک جوہری معاہدہ ممکن نہیں ہے۔

ایران کی اسٹوڈنٹس نیوز ایجنسی (ایسنا) نے اتوار کو مذاکراتی ٹیم کے ایک رکن کے حوالے سے کہا ہے کہ ''ڈیڈلائن میں بہت تھوڑا وقت رہ گیا ہے اور ابھی بہت سے تصفیہ طلب امور پر بحث مباحثہ ہونا اور انھیں طے کیا جانا ہے،لہٰذا اس صورت حال کے پیش نظر سوموار تک حتمی اور جامع معاہدے کا امکان نہیں ہے''۔

اس مذاکرات کار کا کہنا ہے کہ اگر اتوار کی رات تک کوئی معاہدہ طے نہیں پاتا تو پھر ہم مذاکرات میں توسیع کے آپشن پر غور کریں گے۔درایں اثناء ایک ایرانی ذریعے نے فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ اگر اتوار کی رات تک کوئی سمجھوتا طے نہیں پاتا تو پھر ایران عالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری مذاکرات میں ایک سال کی توسیع کے لیے تیار ہے۔

اس ذریعے کے بہ قول یہ مذاکراتی توسیع جنیوا معاہدے کی شرائط کے تحت کی جائے گی۔اس کے تحت ایران پر عاید پابندیوں میں محدود پیمانے پر نرمی کی گئی تھی۔اس ذریعے نے مزید کہا کہ ''ہم ابھی تک ایک طرح کے سیاسی سمجھوتے پر اتفاق کی کوشش کررہے ہیں۔یہ تحریری نہیں ہوگا لیکن اس کے تحت مذاکرات کار بعد میں سمجھوتے کے ٹیکنیکل پہلوؤں کو طے کرسکیں گے۔البتہ اگر ایسا نہیں ہوتا تو پھر ہم جنیوا معاہدے میں چھے ماہ یا ایک سال کی توسیع کے لیے بات چیت کریں گے اور اس کے ساتھ ساتھ ہم محاذ آرائی کے ماحول سے بھی بچنے کی کوشش کریں گے''۔

ویانا میں امریکا ،برطانیہ ،فرانس ،جرمنی ،روس اور چین کا ایران کے ساتھ مجوزہ جوہری معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے مذاکرات کا یہ دور گذشتہ منگل کو شروع ہوا تھا۔مذاکراتی عمل میں شریک ایرانی اور مغربی سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ طرفین میں ایران کی یورینیم کو افزودہ کرنے کی صلاحیت سے متعلق بنیادی ایشوز اور پابندیاں ہٹانے سے متعلق امور پر اختلافات پائے جارہے ہیں۔دونوں فریق اس وقت جوہری پروگرام سے متعلق بڑے ایشوز مثلاً سینٹری فیوجز کی تعداد ،یورینیم افزودہ کرنے کی صلاحیت اور ایران پر عاید پابندیاں ہٹانے کے نظام الاوقات سے متعلق ایک فریم ورک سمجھوتے تک پہنچنے کی کوشش کررہے ہیں۔