.

اسرائیل: تازہ نسل پرستانہ فیصلے سے جمہوری کردار کو خطرہ

صرف یہودی ریاست بنانا بنیادی ریاستی دستاویز کے بھی خلاف ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی کابینہ نے اگلے روز اسرائیل کو کلی طور پر ایک نسل پرستانہ یہودی ریاست قرار دینے کی منظوری دے کر یہ واضح کر دیا ہے کہ یہ صرف یہودیوں کی ریاست ہے اور کسی دوسری نسل یا مذہب سے تعلق رکھنے والوں کا اس میں کوئی مستقبل نہیں ہے۔

امکان ہے کہ اسرائیلی پارلیمنٹ اس بارے میں جلد قانون کی منظوری دے دے گی۔ جس کے بعد اسرائیل میں غیر یہودی شہریوں کا مستقبل پہلے سے بھی نہ صرف مخدوش ہو جائے گا بلکہ وہ اپنے مستقبل کے تحفظ سے قانونی طور پر بھی محروم ہو جائیں گے۔

تجزیہ کار اور''لندن میں قائم ادارے ایڈووکیسی گروپ فار عرب برٹش انڈر سٹینڈنگ '' کے ڈائریکٹر چریس ڈوئیل نے '' العربیہ'' سے بات کرتے ہوئے کہا '' اسرائیل میں عرب آبادی کا بیس فیصد پارلیمنٹ میں اس متوقع بل کے مخالف ہوں گے کہ اس بل سے عربوں کی عمومی اکتاہٹ میں اضافہ ہو گا۔''

ان کا مزید کہنا تھا '' اس کوشش سے عرب شہریوں میں گھبراہٹ اور پریشانی کا بڑھنا فطری ہے جو پہلے ہی پائی جاتی ہے۔''

چریس ڈوئیل نے کہا '' یہ واقعہ ایک ایسی ریاست میں پیش آ رہا ہے جہاں غیر یہودی شہری اپنے وطن سے محروم کر دیے گئے ہیں، اپنے گھروں سے محروم کر دیے گئے ہیں، جنہیں بہت سارے حقوق سے محروم کر دیا گیا ہے ، یہ پوری دنیا کے لیے ایک منفی رجحان سازی کی کوشش بھی ہے۔''

اتوار کے روز اسرائیلی کابینہ کے اجلاس میں وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کا منصوبہ یہ نظر آیا ہے کہ وہ ایک منظم انداز میں متوقع بل کے حق میں ووٹنگ کا امکان یقینی بنائیں گے۔

اسرائیلی اخبار ''یروشلم پوسٹ'' کے مطابق بنجمن نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ اسرائیل یہودیوں کا قومی گھر ہے ، جس میں برابر کے حقوق صرف یہودیوں کے لیے ہیں ، جن کا پرچم ہے ، جن کا ترانہ ہے، اس لیے پوری دنیا سے ہر یہودی کا یہ حق ہے کہ یہودی اس ریاست میں منتقل ہو۔''

اخبار نے مزید لکھا ہے'' یہ بل میں اسرائیل کو ایک امتیازی یہودی ریاست کا کردار دینے کے لیے ہو گا ، اسی لیے عرب زبان کو سرکاری زبان کی فہرست سے نکالا گیا ہے۔''

امریکی یونیورسٹی بیروت کے پروفیسر ہلال کاشان کے مطابق '' اسرائیل کو یہودی ریاست قرار دینے کی تجویز علامتی حیثیت سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ یہ ظاہر کرتی ہے کہ آئندہ دنوں اسرائیلی ریاست کی شکل اور سمت کیا ہو گی، جبکہ اسرائیل میں اقلیتیں پہلے ہی خطرات سے دوچار ہیں۔''

پروفیسر کاشان کا مزید کہنا تھا '' اسرائیل میں اسے نیا نہیں سمجھا جائے گا کیونکہ یہودی سیاستدان عام طور پر اسی بیانیے کا اظہار کرتے رہتے ہیں، فرق یہ ہو گا کہ اب غیر یہودیوں کے خلاف امتیازی سلوک اور ان کے خلاف اقدامات کو قانونی تحفظ حاصل ہو جائے گا۔

اسرائیلی اوپن یونیورسٹی میں سیاسیات کے استاد ڈینس چاربیٹ نے کابینہ کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا''، ہو سکتا ہے کہ اس بارے میں لائے جانے والے بل کا حتمی مسودہ زیادہ اعتدال کا حامل ہو لیکن اس کے باوجود اس طرح کے اقدامات سے مسئلہ رہے گا۔''

اسرائیلی یونیورسٹی کے استاد کا یہ بھی کہنا تھا کہ نیتن یاہو کی یہ تجویز اسرائیلی ریاست سے جمہوری عنصر کو کم کرے گی اور مذہبی پیشوائیت کے اثرات بڑھیں گے۔''

اسرائیلی اٹارنی جنرل نے کہا '' اس بل سے اسرائیل کے جمہوری کردار کا نقصان ہو گا اور اس سے مزید مسائل پیدا ہوں گے کہ سیاستدان نجی ارکان کی طرف سے آنے والے بل کی حمایت کریں گے۔''

نیتن یاہو کی جماعت کے ایک سابق رکن پارلیمنٹ ڈین میریڈور نے اس کی مذمت کی اور کہا '' یہ مکمل طور پر ایک غیر ضروری کوشش ہے ، سب کو معلوم ہے کہ ہماری ریاست ایک یہودی ریاست ہے اور ہمارے ماں باپ نے اسی مقصد کے لیے اپنی زندگیان وقف کی تھیں۔''

واضح رہے 1948 میں اسرائیلی ریاست کے قیام کی دستاویز میں اسے ایک یہودی ریاست ہی قرار دیا گیا تھا تاہم اس میں دوسرے لوگوں کے لیے بھی یکساں حقوق کی بات تسلیم کی گئی تھی