.

الاحساء حملے میں ملوث داعش کے چار جنگجو گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی سکیورٹی فورسز نے مشرقی شہر الاحساء میں اسی ماہ کے اوائل میں فائرنگ کے واقعے میں ملوث سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامیہ عراق وشام سے تعلق رکھنے والے چار مشتبہ جنگجوؤں کو گرفتار کر لیا ہے۔

سعودی وزارت داخلہ کے ترجمان میجر جنرل منصور الترکی نے سوموار کو جاری کردہ ایک بیان میں بتایا ہے کہ ان چاروں مشتبہ افراد کی شناخت عبدالله بن سعيد آل سرحان، خالد بن زويد العنزی، مروان بن إبراهيم الظفر اور وطارق بن مساعد الميمونی کے نام سے ہوئی ہے۔

ان میں سے تین افراد کو پہلے بھی گرفتار کیا گیا تھا اور ان کے خلاف دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات پر مقدمہ چلایا گیا تھا۔وزارت داخلہ کے ترجمان نے بتایا ہے کہ اس گروپ کے لیڈر نے الاحساء میں اہل تشیع کے ایک اجتماع پر حملے کے لیے بیرون ملک سے ہدایات وصول کی تھیں۔

ترجمان کے بہ قول سعودی عرب کے مختلف علاقوں سے اب تک داعش سے تعلق کے الزام میں ستتر مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ان میں سے سینتالیس افراد کو پہلے بھی پکڑا گیا تھا لیکن انھیں بعد میں رہا کردیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ الاحساء میں اہل تشیع کے ایک اجتماع پر نامعلوم مسلح حملہ آوروں کی فائرنگ سے سات افراد ہلاک ہوگئے تھے۔اس واقعے کے بعد فائرنگ کے تبادلے میں دو حملہ آور مارے گئے تھے اور دو پولیس اہلکار بھی ان مشتبہ دہشت گردوں سے لڑتے ہوئے جان کی بازی ہار گئے تھے۔