.

تیونس: السبسی کی صدارتی انتخاب میں برتری

موجودہ عبوری صدر منصف مرزوقی دوسرے نمبر پر رہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس میں منعقدہ پہلے آزادانہ صدارتی انتخابات میں سابق وزیراعظم اور سیکولر جماعت نداتیونس کے امیدوار الباجی القائد السبسی غیر حتمی نتائج کے مطابق پہلے نمبر پر ہیں لیکن وہ کامیابی اور دوسرے مرحلے کی پولنگ سے بچنے درکار مطلوبہ اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

الباجی القائد السبسی کی انتخابی مہم کے انچارج محسن مرزوق نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ ''ابتدائی نتائج کے مطابق ندا تیونس کے سربراہ السبسی کو واضح برتری حاصل ہے مگر وہ کامیابی کے لیے 51 فی صد ووٹ نہیں لے سکے ہیں''۔

تیونس سے العربیہ کے نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ الباجی القائد السبسی نے 47.8 فی صد حاصل کیے ہیں۔موجودہ صدر منصف مرزوقی کے حق میں 26.9 فی صد ووٹ ڈالے گئے ہیں۔ اس طرح پہلے مرحلے میں کوئی بھی امیدوار مطلوبہ اکاون فی صد ووٹ نہیں لے سکا ہے اوراب 28 دسمبر کو پہلے اور دوسرے نمبر پر رہنے والے ان دونوں امیدواروں کے درمیان دوبارہ مقابلہ ہوگا۔

صدارتی انتخابات میں سابق مطلق العنان صدر زین العابدین بن علی کی حکومت میں خدمات انجام دینے والے کئی سابق وزراء بھی قسمت آزمائی کررہے تھے لیکن وہ نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ان میں بائیں بازو کے امیدوار حما الہمامی ،کاروباری شخصیت سلیم الریاحی ،خاتون امیدوار میجسٹریٹ کلثوم قانو شامل ہیں۔

تیونس کے قریباً تریپن لاکھ افراد صدارتی انتخاب میں ووٹ دینے کے اہل تھے۔اتوار کو پولنگ کے روز ملک بھر میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور اسلامی جنگجوؤں کے حملوں سے بچنے کے لیے فوج اور پولیس کے ہزاروں اہلکار تعینات کیے گئے تھے جبکہ الجزائر کی سرحد کے نزدیک واقع علاقوں میں پولنگ کا وقت پانچ گھنٹے تک محدود کردیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ تیونس میں آزادی کے بعد سے صرف دو صدر اقتدار میں رہے ہیں۔ان میں بابائے قوم حبیب بورقیبہ 1956ء میں فرانس سے آزادی کے بعد ملک کے صدر بنے تھے۔1987ء میں انھیں زین العابدین بن علی نے ایک بغاوت کے بعد اقتدار سے محروم کردیا تھا اور خود صدر بن بیٹھے تھے۔وہ 2011ء کے اوائل میں عوامی احتجاجی تحریک کے نتیجے میں اقتدار چھوڑ کر سعودی عرب بھاگ گئے تھے۔

تیونس میں عرب بہاریہ انقلاب کے بعد عبوری دور کے لیے منصف مرزوقی صدر منتخب ہوئے تھے اور ان کے اس مختصر دور حکومت میں ملک کا نیا آئین وضع کیا گیا ہے جس میں ملک کو ایک اور آمریت سے بچانے کے لیے صدارتی مدت کو پانچ سال تک محدود کردیا گیا ہے اور صدر کے اختیارات کو بھی محدود کرکے انتظامی اختیارات پارلیمان کے منتخب کردہ وزیراعظم کو سونپ دیے گئے ہیں۔

نداتیونس کے امیدوار اٹھاسی سالہ الباجی قائد السبسی ملک کا روشن خیال تشخص برقرار رکھنے اور معاشرے کو عرب بہاریہ انقلاب کے منفی پہلوؤں سے بچانے کے لیے مہم چلاتے رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ وہ ملک میں تعلیمی ترقی اور خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے اقدامات کا تسلسل برقرار رکھیں گے۔

تاہم ان کے مد مقابل سیکولر طرز سیاست کے علمبردار موجودہ عبوری صدر منصف مرزوقی نے انتخابی مہم کے دوران خبردار کیا تھا کہ الباجی قائد السبسی اگر جیت جاتے ہیں تو ان کی شکل میں سابق رجیم دوبارہ لوٹ آئے گا۔واضح رہے کہ الباجی السبسی سابق مطلق العنان صدر زین العابدین بن علی اور مابعد آزادی پہلے صدر حبیب بورقیبہ کے دور حکومت میں حکومتی عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔سابق حکمراں طبقہ ان کی حمایت کررہا ہے جبکہ منصف مرزوقی کو مذہبی و سیاسی جماعتوں کی بھی حمایت حاصل تھی۔

ملک کی بڑی مذہبی سیاسی جماعت النہضہ نے اپنا کوئی صدارتی امیدوار میدان میں نہیں اتارا تھا اور نہ اس نے کسی امیدوار کی واضح حمایت کا اعلان کیا تھا۔ النہضہ کے سربراہ راشد الغنوشی کا کہنا تھا کہ انھوں نے ملک میں سیاسی انتشار اور تقسیم کو گہرا ہونے سے بچانے کے لیے کسی صدارتی امیدوار کی حمایت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔انھوں نے اپنے حامیوں سے کہا تھا کہ وہ ملک میں جمہوریت کے تسلسل کی ضمانت دینے والے کسی بھی امیدوار کے حق میں ووٹ دے سکتے ہیں۔

تیونس میں اکتوبر میں منعقدہ پارلیمانی انتخابات میں سیکولر جماعت نداتیونس نے سب سے زیادہ نشستیں جیتی تھیں اور اس نے پارلیمان کی دو سو سترہ میں سے پچاسی نشستیں حاصل کی تھِیں لیکن وہ حکومت بنانے کے درکار سادہ اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی تھی۔اس کی حریف اعتدال پسند اسلامی جماعت النہضہ انہتر نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی تھی۔اب یہ توقع کی جارہی ہے نداتیونس اور النہضہ سیاسی اختلافات کے باوجود مل کر نئی مخلوط حکومت بنائیں گی۔