.

دہشت گردی کے خلاف برطانوی وزیر داخلہ کا نیا منصوبہ

خیراتی رقم کے استعمال پر سوالات کی حوصلہ افزائی کا عندیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ رواں سال کے دوران پولیس نے دہشت گردی کی پانچ میں سے چار سازشیں ناکام بنا دی ہیں۔ نئے حالات میں برطانوی وزیر داخلہ تھریسا مئی نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے نئے اقدامات پر مبنی منصوبہ کی تیاری کی ہے۔

سکاٹ لینڈ یارڈ کے کمشنر برنارڈ ہوگن ہووے نے بتایا ہے کہ حالیہ چند برسوں کے دوران برطانیہ میں ہر سال ااوسطاً دہشت گردی کا ایک منصوبہ سامنے آیا ہے، لیکن رواں سال یہ تعداد چار پانچ تک گئی ہے۔''

کمشنر نے اعتراف کیا کہ ''ہم نے اس حوالے سے ایک تبدیل شدہ رفتار دیکھی ہے اور دہشت گردی کے منصوبوں کے زیادہ سنگین ہونے کا تاثر بھی سامنے آیا ہے، جسے ہم دیکھ رہیں ۔''

برطانوی وزیر داخلہ کی طرف سے آج انشورنس کمپنیوں پر پابندی عاید کرنے کا اعلان کیے جانے کی توقع ہے کہ مذکورہ کمپنیاں دہشت گردوں کو تاوان کی رقم ادا کرنے سے باز رہیں۔

دریں اثناء یہ بھی بتایا گیا ہے کہ رواں سال کے دوران گرفتار کیے گئے 271 افراد کے حوالے سے تفتیش کا مرحلہ ابھی جاری ہے۔ البتہ تین افراد کو دہشت گردی کے ایک منصوبے کے الزام کا سامنا پچھلے ہفتے ہی کرنا پڑا ہے۔

میٹروپولیٹن پولیس کے ایک ذمہ دار رولی نے بتایا وہ عوامی آگاہی کے لیے ایک نئی مہم شروع کرنے والے ہیں تاکہ عوام قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی مدد کریں۔

سکاٹ لینڈ یارڈ کے کمشنر نے کہا عوام محتاظ رہ کر امن قائم رکھنے میں مدد کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا عوام کے جمع ہونے والے مقامات، ٹرانسپورٹ کے مراکز کو دہشت گردی کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔

اس عوامی آگاہی کی مہم کے دوران پولیس تقریبا چھ ہزار سے زائد لوگوں کو بریف کرے گی۔ اس مقصد کے لیے سکولوں اور شاپنگ سنٹرز سمیت 80 جگہوں کا انتخاب کیا گیا ہے۔

اس عوامی مہم کے دوران شہریوں کی طرف سے ان سوالات کی بھی حوصلہ افزائی کی جائے گی جن کے جواب میں وہ اپنی خیرات کردہ رقوم کے استعمال کے بارے میں جان سکیں ۔ تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ یہ فنڈز کہیں دہشت گردوں کے ہاتھوں میں تو نہیں پہنچ رہے ہیں۔

پولیس کے سربراہ نے کہا ماہ اگست کے دوران ایک بڑی دہشت گردی کا خطرہ پیدا ہوا تھا، اس دوران احتیاط اور تحمل سے رہنے کے لیے کہا گیا تھا۔ پولیس چیف نے اس امر کا خوف طاہر کیا کہ جو عسکریت پسند شام میں لڑنے گئے ہیں وہ واپس آ کر برطانیہ میں گڑبڑ کر سکتے ہیں۔

واضح رہے برطانوی لیبر پارٹی کا کہنا ہے کہ حکومت جن عسکریت پسندوں کے داعش میں جانے کی بات کرتی ہے ان کی تعداد 500 نہیں بلکہ اس چار گنا زیادہ یعنی 2000 ہے۔ تاہم پولیس چیف نے اس پر تبصرہ نہیں کیا ہے۔