.

والی بال میچ دیکھنے کی پاداش میں گرفتار ایرانی دوشیزہ رہا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی حکام نے والی بال دیکھنے کی پاداش میں گذشتہ جون سے حراست میں رکھی گئی دوشیزہ غُنچہ قوامی کو 100 ملین ایرانی تومان [35 ہزار ڈالرز] مالیت کی ضمانت پر رہا کر دیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی"سحام نیوز" نے غنچہ کی رہائی کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ اسے گذشتہ روز جیل سے رہا کیا گیا تھا۔

قبل ازیں ایران کی ایک انقلاب عدالت نے قوامی کو حکومت وقت کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کرنے کے الزام میں قصور وار قرار دے کر اسے ایک سال قید کی سزا دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ ایرانی پراسیکیوٹر کا دعویٰ تھا کہ قوامی کے بیرون ملک شامی اپوزیشن گروپوں کے ساتھ بھی روابط ہیں اور اسے کم سے کم ایک سال قید، جرمانہ اور رہائی کے بعد دو سال تک بیرون ملک سفر پر پابندی کی سزائیں ہو سکتی ہیں۔

گذشتہ ستمبر کو ایرانی عدالت کے ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ غنچہ قوامی کو قومی سلامتی سے متعلق بعض اہم اسباب کی بناء پر حراست میں لیا گیا ہے اس کا کھیل کے میدان میں مردوں کا والی بال میچ دیکھنے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

غنچہ قوامی کی گرفتاری اور کے ظالمانہ ٹرائل پر انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عاید کیا تھا کہ ایران پرامن اور بے قصور خواتین کے ساتھ بھی امتیازی سلوک روا رکھے ہوئے ہے۔

خیال رہے کہ غنچہ قوامی کے پاس ایران کے علاوہ برطانوی شہریت بھی ہے۔ برطانوی حکومت کی جانب سے بھی اس کی گرفتاری کی شدید مذمت کی گئی تھی۔ برطانوی وزارت خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ غنچہ قوامی کوا حکومت مخالف پروپیگنڈہ کرنے کے من گھڑت الزامات کے تحت ایک سال کی دی گئی سزا قطعی غیر قانونی اور غیر اخلاقی ہے۔ وہ انقلاب عدالت کی اس سزا کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ اس سے قبل انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ بھی سزا کو غیر قانونی قرار دے چکی ہے۔

غنچہ قوامی کون؟

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق برطانوی 25 سالہ نژاد غنچہ قوامی انسانی حقوق اور عالمی قانون کی طالبہ رہی ہے۔ اس نے برطانیہ ہی سے قانون اور انسانی حقوق کے شعبوں میں تعلیم حاصل کی لندن ہی میں ٹرینی کے طور پر وکالت شروع کر دی تھی۔

ایرانی حکام نے اسے 20 جون کو حراست میں لیا اور کہا گیا کہ وہ تہران کے آزادی گرائونڈ میں منعقدہ ایک فٹ بال اسٹیڈیم میں 10 دیگر خواتین کے ہمراہ مردوں کا ایک والی بال میچ دیکھنے گئی تھی۔

غنچہ نے ایرانی پولیس کے الزامات مسترد کر دیے اور اپنے خلاف غیر قانونی مقدمے کے رد عمل میں جیل میں بھوک ہڑتال کر دی تھی۔

بعد ازاں ایرانی عدلیہ کی جانب سے کہا گیا تھا کہ غنچہ کی گرفتاری کا کھیل کا میچ دیکھنے سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اسے سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر حراست میں لیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ ایران میں سنہ 1979ء میں برپا ہونے والے ولایت فقیہ کے انقلاب کے بعد مل میں سخت نوعیت کے اسلامی قوانین نافذ ہیں۔ ان قوانین کے خواتین کو کھلے عام کھیل کے میدانوں میں تماشائی کے طورپر شریک ہونے پر پابندی عاید ہے۔ ایرانی حکومت کی جانب سے عاید پابندیوں کے خلاف آئے روز احتجاجی مظاہرے بھی ہوتے رہتے ہیں۔