.

امریکی وزیردفاع چَک ہیگل مستعفی

افغانستان سے انخلاء اور داعش مخالف مہم پر صدراوباما سے اختلافات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے وزیردفاع چک ہیگل نے صدر براک اوباما کے ساتھ افغانستان سے فوج کے انخلاء اور عراق اور شام میں سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامیہ (داعش) کے خلاف مہم پر اختلافات کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

امریکی صدر براک اوباما نے سوموار کو وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب کے دوران اڑسٹھ سالہ چَک ہیگل کے استعفے کو منظور کرنے کا اعلان کیا ہے اور بتایا ہے کہ ''انھوں نے گذشتہ ماہ ان سے رابطہ کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ اپنا عہدہ چھوڑنا چاہتے ہیں''۔

قبل ازیں امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے سوموار کو ایک رپورٹ میں اطلاع دی تھی کہ صدر براک اوباما نے چک ہیگل کو پینٹاگان کی سربراہی سے ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔وہ ان کی سکیورٹی ٹیم میں حزب اختلاف ری پبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے واحد رکن ہیں۔اخبار نے لکھا ہے کہ داعش کے خلاف لڑائی میں مسٹر ہیگل کی وضع کردہ حکمت عملی اور صدر اوباما کی پالیسی میں تضاد تھا۔

صدراوباما نے گذشتہ ہفتے چک ہیگل سے کئی ملاقاتیں کی تھیں اور اس کے بعد ان سے استعفیٰ لینے کا فیصلہ کیا تھا۔اوباما انتظامیہ کے ایک عہدے دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ہے کہ ''آیندہ چند سال کے دوران ایک مختلف حکمت عملی پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔ہیگل کو برطرف نہیں کیا گیا ہے بلکہ وہ صدر اوباما کے ساتھ مشاورت کے بعد اپنا عہدہ چھوڑ رہے ہیں''۔تاہم وہ نئے وزیردفاع کے تقرر اور سینیٹ سے اس کی منظوری تک پینٹاگان کے سربراہ کی حیثیت سے کام کرتے رہیں گے۔

واضح رہے کہ چک ہیگل نے دوصفحے کے ایک داخلی پالیسی میمو میں صدر اوباما کی شام کے بارے میں حکمت عملی سے متعلق سوالات اٹھائے تھے اور خبردار کیا تھا کہ ان کی جانب سے شامی صدر بشارالاسد کے بارے میں کوئی واضح پالیسی نہ ہونے کی وجہ سے ان کی حکمت عملی خطرے سے دوچار رہے گی۔

وائٹ ہاؤس نے ایسا کوئی اشارہ نہیں دیا ہے کہ اب نیا وزیردفاع کون ہوگا لیکن نیویارک ٹائمز نے اپنی مذکورہ رپورٹ میں تین ناموں کا ذکر کیا ہے اور لکھا ہے کہ محکمہ دفاع کے سابق انڈر سیکریٹری مشعل فلورنی ،رہوڈ آئی لینڈ سے تعلق رکھنے والے سینیٹر جیک ریڈ اور سابق فوجی افسر اور سابق ڈپٹی سیکریٹری دفاع آشٹن کارٹر میں سے کسی ایک کو سیکریٹری دفاع کے عہدے کے لیے نامزد کیا جاسکتا ہے۔

چک ہیگل نے ویت نام کی جنگ میں نان کمیشنڈ آفیسر کی حیثیت سے حصہ لیا تھا اور وہ ری پبلکن پارٹی کی جانب سے سینیٹ کے رکن منتخب ہوئے تھے۔انھوں نے 2003ء میں امریکا کی عراق پر چڑھائی کے حق میں ووٹ دیا تھا لیکن صدر اوباما کی جانب سے عراق اور افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء کی پالیسی کی مخالفت کی تھی۔وہ اوباما انتظامیہ میں دوسال سے بھی کم عرصہ وزیردفاع رہے ہیں۔امریکا میں حال ہی منعقدہ وسط مدتی انتخابات میں حکمراں ڈیموکریٹک پارٹی کی شکست کے بعد وہ مستعفی ہونے والے پہلے وزیر ہیں۔