.

مصر:اخوان کی اپنے حامیوں سے مظاہروں کی اپیل

ملک کا اسلامی تشخص بچانے کے لیے سلفی محاذ کی اپیل کا خیرمقدم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں حکومت کے عتاب کا شکار بڑی مذہبی سیاسی جماعت اخوان المسلمون نے اپنے حامیوں سے ملک کے اسلامی تشخص کو بچانے کے لیے مظاہروں کی اپیل کی ہے۔

اخوان نے سوشل میڈیا نیٹ ورکس کے ذریعے اپنے حامیوں سے حکومت کے خلاف احتجاجی ریلیاں نکالنے کی اپیل کی ہے۔اس سے پہلے سلفی محاذ نے 28 نومبر کو ملک گیر احتجاجی مظاہروں کی اپیل کی تھی اور مسلم نوجوانوں پر زوردیا تھا کہ وہ اسلامی شناخت کو اجاگر کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوں۔

اخوان المسلمون نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر انگریزی میں جاری کردہ ایک بیان میں سلفی محاذ کی مظاہروں کی اس اپیل کو سراہا ہے،اس نے ہر طرح کے تشدد کی مذمت کی ہے اور ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرنے اور آزادی کے لیے اٹھ کھڑے ہونے کا اعلان کیا ہے۔

ٹویٹر پر عربی اکاؤنٹ میں اخوان نے لکھا ہے کہ'' مصری عوام مصر کی اسلامی شناخت کے خلاف جنگ کو قبول نہیں کریں گے،وہ اپنی مساجد کی تباہی اور نوجوانوں کی ہلاکتوں کو بھی قبول نہیں کریں گے''۔

مصری روزنامے الاہرام آن لائن کی رپورٹ کے مطابق اخوان المسلمون اور سلفی محاذ دونوں نے برطرف صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے اور پہلی مرتبہ ان دونوں مذہبی سیاسی جماعتوں نے اکٹھے 28 نومبر کو احتجاجی مظاہرے کرنے کی اپیل کی ہے۔

واضح رہے کہ قبل ازیں یہ دونوں جماعتیں قانونی حاکمیت کی بحالی کے قائم کردہ قومی اتحاد کے پرچم تلے صدر عبدالفتاح السیسی کی حکومت کے خلاف احتجاج کرتی رہی ہیں لیکن گذشتہ ماہ مصر کی ایک عدالت نے اس اتحاد کو غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کردیا تھا۔

مصر نے گذشتہ سال دسمبر میں اخوان المسلمون کو دہشت گرد قرار دے دیا تھا اور اس کے مرکزی قائدین ،ہزاروں اراکین اور حامیوں کو گرفتار کرکے پس دیوار زنداں کردیا گیا تھا اور اب ان کے خلاف دہشت گردی یا غیر قانونی مظاہروں کی پاداش میں مقدمات چلائے جارہے ہیں اور ان میں سیکڑوں کو موت اور عمر قید کی سزائیں سنائی جاچکی ہیں۔