.

ایک لاکھ حوثیوں کی یمنی فوج میں بھرتی کے لیے مذاکرات

مرنے والے جنگجوئوں کو فوجی قرار دینے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں حکومت کے لیے درد سر بننے والے شدت پسند شیعہ حوثیوں اور صنعاء حکومت کے درمیان مذاکرات کی ایک نئی کوشش کا انکشاف ہوا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ حوثی اپنے 93 ہزار جنگجوئوں کو یمنی فوج میں بھرتی کے لیے دبائو ڈال رہے ہیں۔

یمنی اخبار"الشارع" کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صنعاء حکومت اور الصعدہ گورنری کے حوثی قائدین کے درمیان پس چلمن مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔ حوثیوں کی جانب سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ان کے 93 ہزار جنگجوئوں کو فوج اور دیگر سیکیورٹی اداروں میں بھرتی کیا جائے۔ ذرائع کے مطابق صدر عبد ربہ منصور الھادی نے 20 ہزار حوثیوں کو فوج میں بھرتی کرنے پر رضا مندی کا اظہار کیا ہے تاہم حوثیوں کا مطالبہ ایک لاکھ کے قریب اپنے جنگجوئوں کو فوج میں بھرتی کرنا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حوثیوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے 75 ہزار جنگجوئوں کو فوری طور پر فوج میں بھرتی کیا جائے۔ نیز پچھلے کچھ عرصے کے دوران جھڑپوں میں ہلاک ہونے والے 18 جنگجوئوں کو بھی فوج اہلکاروں کا درجہ دے کران کے اہل خانہ کو ان کی تنخواہوں اور پنشن کی شکل میں رقوم ادا کی جائیں۔

ذرائع کے مطابق یمنی سیکیورٹی فورسز، حکومت اور حوثیوں کے نمائندہ کمیٹیوں کے درمیان بات چیت کا سلسلہ بدستور جاری ہے تاہم وہ کسی حتمی نتیجہ تک نہیں پہنچ پائے ہیں۔ یمنی حکومت کے ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ صدر عبد ربہ منصور ھادی نے جھڑپوں میں مارے جانے والے حوثی جنگجوئوں کے لواحقین کی مالی اعانت کی بھی یقین دہانی کرائی ہے حالانہ یمنی وزارت خزانہ نے واضح کیا ہے کہ اس کے پاس اتنی اضافی رقم نہیں تاہم صدر ھادی حوثیوں کی جانب سے بڑی تعداد میں اپنے عسکریت پسندوں کوج فوج میں داخل کرانے سے روکنے کے لیے یہ راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

حوثی شدت پسندوں اور یمنی حکومت کے درمیان میجر جنرل علی محسن الاحمر اور ان کے یرغمال اہل خانہ کا معاملہ بھی وجہ نزاع ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے بھی الاحمر قبیلے کے حوثیوں کے ہاں یرغمال بنائے گئے شہریوں کی رہائی کے لیے دبائو بڑھ رہا ہے۔ حکومت نے حوثیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ گذشتہ مہینے علی محسن الاحمر قبیلے کے رہ نمائوں کے گھروں میں کی گئی لوٹ مار میں ان کی املاک واپس کریں تاہم حوثیوں کی جانب سے فی الحال یہ مطالبہ تسلیم نہیں کیا ہے۔ اس قبیلے کے کئی افراد ابھی تک حوثیوں کی حراست میں ہیں۔