.

مصر میں انتقالِ اقتدار کے دوران امن کو یقینی بنائیں:پوپ فرانسیس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

رومن کیتھولک کے روحانی پیشوا پوپ فرانسیس نے مصری صدر عبدالفتاح السیسی پر زوردیا ہے کہ وہ اپنے ملک میں سیاسی انتقال اقتدار کے عمل کے دوران امن کو یقینی بنائیں۔انھوں نے مصر پر یہ بھی زوردیا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں تنازعات طے کرنے کے لیے اپنا سفارتی کردار ادا کرے۔

مصری صدر نے سوموار کو یورپ کے اپنے پہلے دورے کے آغاز کے موقع پر ویٹی کن میں پوپ فرانسیس سے ملاقات کی ہے۔بعد میں ویٹی کن کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہ نماؤں نے خوش گوار ماحول میں تبادلہ خیال کیا ہے اور انھوں نے مصر کے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے کردار پر بات چیت کی ہے۔

پوپ نے مصر میں انتقالِ اقتدار کے عمل کے دوران انسانی حقوق اور مذہبی آزادیوں کے آئینی تحفظ زوردیا ہے اور صدر السیسی سے کہا ہے کہ ملک میں بین المذاہب ڈائیلاگ کو جاری رکھا جائے۔

بیان کے مطابق اس بات کا اعادہ کیا گیا ہے کہ ''ڈائیلاگ اور مذاکرات ہی تنازعات اور تشدد کے خاتمے کا واحد ذریعہ ہیں کیونکہ اس تشدد نے خطے کی آبادی کے بڑے حصے کو خطرات سے دوچار کردیا ہے اور انسانی جانوں کو نقصان پہنچ رہا ہے''۔

اس سے پہلے صدرعبدالفتاح السیسی کا اٹلی کے دارالحکومت روم پہنچنے پر وہاں مقیم سیکڑوں مصریوں نے شاندار استقبال کیا۔وہ ڈھول کی تھاپ پر رقص کررہے تھے اور انھوں نے مصری صدر کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں۔مصری صدر چار روزہ دورے کے اگلے مرحلے میں اٹلی سے فرانس جائیں گے۔ان کے اس دورے کا ایک بڑا مقصد یورپی سرمایہ کاروں کو اپنے ملک میں سرمایہ کاری کی جانب راغب کرنا ہے تاکہ معاشی مسائل کا شکار مصر اپنے مسائل سے نکل سکے۔