.

اسرائیل پوری دنیا کی مخالفت کررہا ہے:جنوبی افریقہ

صہیونی ریاست یہودی آبادکاری کی تمام سرگرمیوں کو ختم کرے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جنوبی افریقہ کے صدر جیکب زوما نے کہا ہے کہ اسرائیل اپنی آبادکاری کی پالیسی کے ذریعے فلسطینی تنازعے کے دوریاستی حل کو نقصان پہنچا رہا ہے اور اس طرح پوری دنیا کی مخالفت کا مرتکب ہورہا ہے۔

انھوں نے یہ کلمات فلسطینی صدر محمود عباس کی جنوبی افریقہ کے سرکاری دورے پر دارالحکومت پریٹوریا میں آمد کے موقع پر مشترکہ نیوزکانفرنس میں کہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ ''اس وقت حقیقت یہ ہے دنیا کی اکثریت تنازعے کے دوریاستی حل سے متفق ہے لیکن ہمیں ایک ایسے ملک سے مسئلہ درپیش ہے جو ان سب ممالک کی مخالفت کررہا ہے''۔

انھوں نے اپنے اس مطالبے کا اعادہ کیا کہ ''یہودی آبادکاری کی تمام سرگرمیوں پر مکمل طور پر پابندی عاید کی جائے''۔انھوں نے اقوام متحدہ کے کام کرنے کے طریق کار کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ میرا نہیں خیال کہ سسٹم کو صرف ایک ملک کو پوری دنیا کی مخالفت کی اجازت دینی چاہیے۔

صدر جیکب زوما کا کہنا تھا کہ جنوبی افریقہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان مذاکرات میں مدد دینے کو تیار ہے اور اس نے اس مقصد کے لیے ماضی میں اپنے دو خصوصی نمائندوں کا تقرر بھی کیا تھا۔

اس موقع پر صدر محمود عباس نے کہا کہ فلسطینی ایک آزاد ریاست کے قیام کے لیے جنوبی افریقہ کے کامیاب تجربے سے استفادہ کرنا چاہتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ''ہم اس وقت دنیا کی آخری قوم ہی رہ گئے ہیں جو ابھی تک قبضے کے تحت رہ رہے ہیں''۔

واضح رہے کہ جیک زوما کی جماعت افریقی نیشنل کانگریس فلسطینی نصب العین کی بہت بڑی مؤید ہے اور اس سے تعلق رکھنے والے سیاست دان اسرائیل کا جنوبی افریقہ کی سابق نسل پرست حکومت سے موازنہ کرتے رہتے ہیں۔جنوبی افریقہ کی سابق سفید فام اقلیتی حکومت نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کررکھے تھے لیکن جب 1994ء میں نیلسن مینڈیلا ملک کے پہلے جمہوری صدر منتخب ہوئے تھے تو انھوں نے فلسطین کی حمایت کا اظہار کیا تھا اور یہ اعلان کیا تھا کہ ''جنوبی افریقہ کی آزادی فلسطینیوں کی آزادی کے بغیر نامکمل ہے''۔