بنگلہ دیش: حج پر تنقید کرنے والا سابق وزیر سرنڈر

میجسٹریٹ کی عدالت سے ضمانت نہ کرانے پر جیل بھیج دیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اسلام کے پانچویں رکن حج پر تنقید کرنے والے بنگلہ دیش کے سابق وزیر نے خود کو پولیس کے حوالے کردیا ہے اور عدالت سے ضمانت نہ کرانے پر ان صاحب کو جیل بھیج دیا گیا ہے۔

سابق وزیر عبداللطیف صدیق بھارت اور امریکا میں طویل قیام کے بعد اتوار کو بنگلہ دیش لوٹے تھے۔ملک کی اسلامی جماعتوں نے انھیں گرفتار کرنے کے لیے حکومت کو الٹی میٹم دے رکھا تھا۔انھوں نے امریکا میں قیام کے دوران ایک متنازعہ تقریر کی تھی جس میں انھوں نے حج کو وقت اور پیسے کا ضیاع قرار دیا تھا۔

ان کے اس اشتعال انگیز بیان کے خلاف ملک بھر میں اسلامی جماعتوں کے کارکنان نے احتجاجی مظاہرے کیے تھے اور ان کے خلاف مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا تھا۔ڈھاکا میٹرو پولیٹن پولیس کے ترجمان مسعود الرحمان نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ ملزم نے منگل کی دوپہر خود کو پولیس کے حوالے کردیا ہے۔

پبلک پراسیکیوٹر عبداللہ ابو نے بتایا ہے کہ ملزم نے ڈھاکا کے چیف میٹروپولیٹن میجسٹریٹ کی عدالت سے ضمانت کے لیے درخواست دائر نہیں کی ہے جس کے بعد انھیں جیل بھیج دیا گیا ہے۔

عبداللطیف صدیق کی عدالت میں پیشی کے وقت سیکڑوں افراد جمع ہوگئے تھے۔انھوں نے ان کی جانب جوتے پھینکے اور شدید نعرے بازی کی۔واضح رہے کہ وہ بنگلہ دیش کے ٹیلی مواصلات کے وزیر تھے اور وزیراعظم شیخ حسینہ نے انھیں امریکا میں قیام کے وقت ہی عوامی مظاہروں کے بعد وزارت سے برطرف کردیا تھا۔

بنگلہ دیش کی مقامی عدالتوں نے مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنے کے الزام میں ان کے خلاف دس سے زیادہ وارنٹ گرفتاری جاری کررکھے تھے۔انھوں نے نیویارک میں بنگلہ دیشی تارکین وطن کی ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے حج اور تبلیغی جماعت کے خلاف نازیبا باتیں کی تھیں۔

ٹیلی ویژن پر نشر کی گئی فوٹیج کے مطابق انھوں نے کہا تھا کہ ''بیس لاکھ لوگ حج کے لیے سعودی عرب گئے ہیں۔حج افرادی قوت کا ضیاع ہے جو لوگ حج کرتے ہیں،ان کا کوئی پیداواری کردار نہیں ہوتا۔عازمین حج بہت زیادہ رقم بیرون ملک خرچ کردیتے ہیں''۔

ٹیلی ویژن پر ان کی یہ قابل اعتراض تقریر نشر ہونے کے بعد ایک اسلامی جماعت حفاظتِ اسلام نے انھیں ملحد قرار دے دیا تھا۔تاہم انھوں نے حج سے متعلق اپنے بیانات پر معافی مانگنے سے انکار کردیا تھا حالانکہ انھوں نے خود 1998ء میں حج کیا تھا۔یادرہے کہ 1994ء میں بنگلہ دیش کی شاتم رسول مصنفہ تسلیمہ نسرین کے خلاف بھی اسی قسم کے خیالات پر مظاہرے کیے گئے تھے جس کے بعد وہ ملک چھوڑنے پر مجبور ہوگئی تھی اور اس وقت بھارت میں جلا وطنی کی زندگی گزار رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں