دمام یونیورسٹی: طالبات کیلیے ایک رنگ کی عبایا پہننا لازم

خلاف ورزی پر کارروائی ہو گی، ڈیزائنرز اور دکانداروں کو بھی انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب کی دمام یونیورسٹی نے طالبات پر رنگ برنگی عبایا پہن کر یونیورسٹی آنے پر پابندی عاید کر دی ہے اور انہیں کہا ہے کہ یونیورسٹی ڈریس کوڈ کی پابندی کریں۔

یونیورسٹی نے یہ اقدام دو طالبات کے ایسے رنگوں کے کی عبائیں پہن کر آنے کا نوٹس لیتے ہووئے کیا ہے جن کے رنگ تعلیمی ماحول کے وقار سے میل نہ کھاتے تھے۔

طالبات نے پچھلے ہفتے بتایا تھا کہ جامعہ کے سپرٹنڈنٹس اور محافظین نے طالبات کو سیاہ رنگ کی عبائیں پہن کر آنے کے لیے کہنا شروع کر دیا تھا۔

ایک طالبہ نور عبدالہادی نے کہا جامعہ کے تمام کیمپسز میں طالبات کو سیاہ عبایا پہن کر آنے کا کہہ دیا گیا ہے۔ اس ضابطے کی خلاف ورزی کرنے پر طالبات کے خلاف سخت انضباطی کارروائی کی جا سکے گی۔

دمام یونیورسٹی کی انتظامیہ نے اس سلسلے میں عبائیں تیار کرنے اور فروخت کرنے والوں کے دباو کو بھی قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے ۔

معلوم ہوا پے کہ مارکیٹ میں براون اور سرمئی رنگوں کے علاوہ دوسرے رنگوں کی عبایا بھی ایک بھر مار کیے ہوئے ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ عبائیں فروخت کرنے والی دکانوں کو پچھلے دنوں جرمانے بھی کیے گئے ہیں، کہ ان کی وجہ سے یونیورسٹی کا تعلیمی ماحول متاثر ہو رہا ہے۔

اس امر کی تصدیق عبائیں فروخت کرنے والی دکانوں پر کام کرنے والے سیلز مینوں نے بھی کی ہے۔ دوسری طرف عبائیں ڈیزائن کرنے والوں نے کہا ہے کہ انہیں وزارت محنت کی طرف سے انتباہ کیا گیا ہے کہ یونیورسٹی کے نظم وضبط کی پابندی میں طالبات کی مدد کریں نہ بلکہ انہیں نظم وضبط کی خلاف ورزی کی طرف مائل کریں۔

وزارت محنت کی خواہش یہ ہے کہ ڈیزائنر حضرات ایسے پہناوے تیا نہ کریں جو ملک کے مجموعی ماحول اور روایات کے آئینہ دار نہ ہوں، اسی حوالے سے یونیورسٹی کے نظم و ضبط کو قائم رکھنے میں بھی مدد کریں۔

دمام یونیورسٹی کی طرف سے عاید کی گئی اس پابندی پر سوشل میڈیا کے ذریعے منقسم آراء سامنے آرہی ہیں۔ ایک ماہرعمرانیات محمد الزہرانی کا اس بارے میں کہا ہے عبایا کے بارے میں تنازعہ دو عشروں سے چل رہا ہے۔

محمد الزہرانی نے کہا '' عبایا کی تیاری میں بعض پہلووں کا بہر حال خیال رکھا جانا ، اس میں استعمال کیا جانے والا کپڑا باریک ہو نہ شفاف بلکہ اسلامی تقاضوں کے مطابق ہے۔''

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں