.

اسرائیل یہودی ریاست: دوسرے درجے کے شہریوں کا انوکھا احتجاج

فیس بک پروفائل تصاویر "دوسرے درجے کے شہری" کی مہروں سے مزین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی کابینہ کی طرف سے اسرئیل کو یہودی ریاست قرار دیے جانے کی منظوری کے خلاف فلسطینیوں اور عرب باشندوں نے سوشل میڈیا پر احتجاجاً اپنی ایسی تصاویر پوسٹ کرنا شروع کر دی ہیں جن پر اسرائیلی ریاستی مہر کے ساتھ خود کو دوسرے درجے کے شہری قرار دیا ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے اپنی حکومت کی طرف سے اسرائیل کو باضابطہ طور پر ایک یہودی ریاست قرار دینے کا دفاع کیا ہے۔ انہوں نے یہ دفاع اس کے باوجود کیا کہ اسرائیلی صدر نے بھی کابینہ کی طرف سے اس منظوری کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

صدر کا کہنا ہے کہ "کابینہ کی طرف سے یہودی ریاست کے حق میں حمایت جمہوریت کی قیمت پر ہو گی اور اس کے ذریعے نسلی امتیازکو اداراتی حیثیت حاصل ہو جائے گی۔"

معلوم ہوا ہے کہ عرب شہریوں کے اس حتجاج کے پیچھے حیفا کی رہائشی گرافک ڈیزائینر ثنا جمائلہ ہیں۔ ایک اسرائیلی اخبار ہارتس سے بات کرتے ہوئے اس خاتون گرافک ڈیزائینر نے کہا "ہم اپنی اس مہم کے ذریعے اس نئے بننے والے قانون کا تمسخر اڑا رہے ہیں۔"

ثنا جمائلہ نے مزید کہا "اس مقصد کے لیے ایک سرکاری نظر آنے والی مہر اپنی اپنی تصویر پر لگا کرخود دوسرے درجے کے شہری بنا کر فیس بک پر تصاویر پوسٹ کر رہے ہیں۔"

ثنا جمائلہ کے مطابق "یہ ایک پر جوش موقع ہے جب صرف ایک دن کے دوران میں نے 200 تصاویر پر مہریں لگا کر پوسٹ کی ہیں جبکہ ابھی بھی میرا "ان باکس" تصاویر سے بھرا ہوا ہے، میں توقع نہیں کرتی تھی کہ ایسا ہو جائے گا۔"

واقعہ یہ ہے کہ ثنا جمائلہ کی طرف سے یہودیوں کو درجہ اول کے شہری کہا گیا ہے تو یہ نئی بات نہیں ہے نئی بات صرف یہ ہے کہ اب اس چیز کو اسرائیل میں باضاطہ طور پر سرکاری سطح پر تسلیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔"

جمائلہ نے کہا "بہت سارے لوگوں نے اس پر ناراضگی ظاہر کی ہے کہ فیس بک پر پوسٹ کردہ تصاویر عبرانی زبان میں مہر کیوں لگائی گئی ہے، میں ان سے کہوں گی اسرائیل ایک یہودی ریاست ہے اور اس میں عبرانی ہی سرکاری زبان ہے، اسرائیل میں عربی ایک ثانوی حیثیت کی حامل زبان بنا دیا گیا ہے۔"

اسرائیلی وزیراعظم نے اپنی حکومت کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا "اس قانون کو لانے کا مقصد یہ ہے کہ ہم یہودی آبادی کا اپنے ملک میں مستقبل محفوظ کرنا چاہتے ہیں۔"

لیکن صدر نے اس منطق کو قابل قبول نہ سمجھتے ہوئے کہا ہے "مجھے اس قانون کو لانے کی سمجھ نہیں آ سکی ہے۔" خیال رہے اسرائیلی صدر کا بنجمن نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی سے ہی تعلق ہے۔