.

روس، شام میں بشار الاسد کا کردار محدود کرنے کا خواہاں!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے صدر بشارالاسد کے دیرینہ حلیف اور اتحادی روس نے بھی شام کے بحران کے پرامن تصفیے کے لیے اپنے سخت گیر موقف میں لچک دکھانے کا عندیہ ظاہر کیا ہے۔ اگرچہ بہ ظاہر روسی قیادت کی بدن بولی صدر اسد کی حمایت ہی میں دکھائی دیتی ہے مگر پس چلمن وہ شامی اپوزیشن سے قربت پیدا کرنے اور شام سے متعلق عالمی امن مندوب اسٹیفن ڈی مستورا کے ساتھ مل کر معاملے کے پرامن حل کی مساعی بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق شامی وزیر خارجہ ولید المعلم نے اپنے روسی ہم منصب سرگئی لافروف سے ماسکو میں ملاقات کی۔ اس ملاقات میں روسی وزیر خارجہ نے شام میں حکومت کی تبدیلی کے لیے سرگرم گروپوں کو دہشت گرد قرار دینے کے ساتھ یہ بھی کہا کہ دولت اسلامی ’’داعش‘‘ کے خلاف امریکا اور اس کے اتحادیوں کی شامی حکومت کو اعتماد میں لیے بغیر کی جانے والی کارروائی عالمی معاہدوں کی خلاف ورزی ہے۔

ولید المعلم نے روسی صدر ولادی میر پوتن سے بھی ملاقات کی۔ مسٹر پوتن اور المعلم کے مابین ہونے والی بات چیت میں بھی شام کا بحران سرفہرست رہا اور دونوں نے ملک میں سرگرم انتہا پسند گروپوں سے نمٹنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال بھی کیا۔ تاہم ماسکو کے مقرب سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ روسی صدر کے شام کے بارے میں موقف میں نرمی اور لچک دکھائی دے رہی ہے۔ انہوں نے شام کے حوالے سے عالمی امن مندوب اسٹیفن ڈی مستورا اور دیگر اسٹیک ہولڈرز سے مل کر صدر بشار الاسد کے کردار کو محدود کرنے کے مختلف آپشنز پر غور شروع کر دیا ہے۔

اس ضمن میں حلب اور دمشق میں جنگ بندی، قیدیوں کے تبادلے کی تجاویز کے ساتھ شامی اپوزیشن کی قیادت سے ملاقاتوں پر غور کیا جا رہا ہے۔ شامی اپوزیشن کی سیاسی قیادت سے ملاقاتوں کے بعد تیسرے جنیوا اجلاس کی تیاری کی طرف اہم پیش رفت ہو سکتی ہے۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ماسکو کی جانب سے شام کے بحران کے پرامن حل کے بارے میں جو غور وخوض کیا جا رہا ہے اس میں شامی حکومت کی رضا مندی بھی شامل ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر بشار الاسد کے مستقبل کے حوالے سے نہ صرف ماسکو بلکہ تہران میں بھی ’متبادل آپشنز‘ اور نیا عبوری سیٹ اپ لانے پر غور کیا جانے لگا ہے۔

حکومت ۔ اپوزیشن میں بات چیت کی بحالی

ذرائع کے مطابق شامی وزیر خارجہ ولید المعلم کی اپنے روسی ہم منصب سے ملاقات کے دوران دمشق حکومت اور اپوزیشن کے نمائندوں کے مابین بات چیت کی بحالی پر بھی غور کیا گیا۔بات چیت میں مشرق وسطیٰ میں تیزی کے ساتھ اپنے پھیلتے اسلامی عسکریت پسند گروپوں کو شکست دینے کے مختلف طریقہ کار پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس موقع پر روسی وزیر خارجہ سرگئی لافروف نے شامی اپوزیشن اور حکومت کے درمیان براہ راست بات چیت کی بحالی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ماسکو، شامی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے میزبانی کرنے کو تیار ہے۔

بات چیت میں داعش اور القاعدہ سے وابستہ النصرہ فرنٹ کے بڑھتے خطرے اور اس کی روک تھام کے طریقہ کار بھی غور کیا گیا۔ روسی وزیر خارجہ نے امریکا اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے شامی حکومت کی اجازت کے بغیر داعش کے خلاف فضائی حملوں کی مذمت کی اور اسے سلامتی کونسل کی قرار دادوں کی خلاف ورزی قرار دیا۔

بشار الاسد کی حمایت

روسی وزیر خارجہ لافروف نےاپنے شامی ہم منصب سے بات چیت میں انہیں یقین دلایا کہ ماسکو، صدر بشارالاسد کی ہر ممکن مدد اور حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ داعش اور دیگر انتہا پسند گروپ شامی حکومت ہی نہیں پوری قوم کے لیے خطرہ ہیں، تاہم دہشت گردوں کے خلاف عالمی برادری کو جنگ دمشق حکومت کےساتھ مل کر لڑنی چاہیے۔ انہوں نے امریکا اور اس کے اتحادیوں پر الزام عاید کیا کہ وہ دہشت گردوں کی سرکوبی کی آڑ میں شام میں اپنی مرضی کا نظام حکومت لانے کی کوشش کر رہےہیں جسے کسی صورت میں کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔

روسی قیادت کی جانب سے بشار الاسد کی غیر مشروط حمایت جاری رکھنے کے اعلانات کے علی الرغم مبصرین کا خیال ہے کہ ماسکو اب صدر اسد کے بارے میں اپنی پالیسی میں تبدیلی لانے پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے۔ مبصرین کے خیال میں داعش کے خلاف جنگ کو روس بھی خوش آئند قرار دیتے ہوئے اس حوالے سے بھی مغرب کے ساتھ قربت پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔