.

جنرل خلیفہ حفتر کا طرابلس پر قبضے کا عزم

سابق جنرل نے انٹرویو میں خود کو تین ماہ کی ڈیڈلائن دے دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کی فوج کے سابق جنرل خلیفہ حفتر نے کسی اور کو نہیں خود کو دوسرے بڑے شہر بن غازی پر مکمل قبضے کے لیے دوہفتے اور دارالحکومت طرابلس پر کنٹرول کے لیے تین ماہ کا الٹی میٹم دیا ہے۔

خلیفہ حفتر کی وفادار فورسز جولائی سے بن غازی میں اسلامی جنگجوؤں کے خلاف نبرد آزما ہیں لیکن وہ طاقت کے بھرپور استعمال کے باوجود اس شہر پر قبضہ نہیں کرسکی ہیں۔خلیفہ حفتر وزیراعظم عبداللہ الثنی اور ان کی پارلیمان کے اتحادی ہیں۔انھیں سرکاری فوج کی مدد بھی حاصل ہے۔انھوں نے حال ہی میں طرابلس کے مغربی علاقے میں اسلامی ملیشیاؤں کے ٹھکانوں پر حملے شروع کیے ہیں۔

جنرل خلیفہ حفتر نے اطالوی روزنامے کورئیر ڈیلا سیرا کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ''طرابلس پر قبضے کے لیے ابھی ہم بالکل آغاز میں ہیں۔ہمیں مزید افرادی قوت ،کمک اور اسلحے کی ضرورت ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ''میں نے خود کو تین ماہ کا وقت دیا ہے لیکن ممکن ہے ہمیں اس سے بھی کم وقت لگے۔فجر لیبیا کے اسلامی جنگجوؤں سے لڑنا کوئی مشکل نہیں ہے،درنہ کی دولت اسلامیہ سے بھی کم مشکل ہے''۔وہ لیبیا کے ایک مشرقی شہر کا حوالہ دے رہے تھے جہاں عراق اور شام میں برسرپیکار سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامیہ (داعش) سے وابستہ جنگجوؤں نے قبضہ کررکھا ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ''بن غازی پر مکمل کنٹرول ان کی ترجیح ہے جہاں ہماری فورسز کے مدمقابل اسلامی جنگجو تنظیم انصارالشریعہ میدان جنگ میں بہت سخت ثابت ہوئی ہے،اس وقت اگرچہ شہر کے اسّی فی صد علاقے پر ہمارا کنٹرول ہے اور ہم پیش قدمی کررہے ہیں لیکن ہم اس شہر پر مکمل قبضہ چاہتے ہیں''۔

سابق لیبی جنرل نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ پارلیمان اور وزیراعظم عبداللہ الثنی کی حکومت کے دفاتر کی کم سے کم بن غازی میں واپسی چاہتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ ''اس مقصد کے لیے میں نے خود کو 15 دسمبر کی ڈیڈلائن دی ہے''۔واضح رہے کہ لیبیا کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ پارلیمان اس وقت مصر کی سرحد کے نزدیک واقع شہر طبرق میں اپنے اجلاس منعقد کررہی ہے اور حکومت بھی اسی شہر سے کام کررہی ہے جبکہ دارالحکومت طرابلس میں اس کے متوازی اسلام پسندوں کی حکومت قائم ہے۔

خلیفہ حفتر کا کہنا تھا کہ ''طبرق میں موجود پارلیمان عوام کی منتخب کردہ ہے لیکن طرابلس میں موجود اسمبلی غیر قانونی ہے اور اسلام پسند تاریخ کو دُہرانا چاہتے ہیں۔اس وقت حقیقی خطرہ اسلام پسندوں سے لاحق ہے جو ہرجگہ اپنی مرضی تھوپنا چاہتے ہیں۔اگر انصارالشریعہ یہاں اقتدار حاصل کرلیتی ہے تو پھر یورپ میں آپ لوگوں کے پاس آپ کے گھروں میں بھی خطرہ پہنچ جائے گا''۔

انھوں نے انٹرویو میں بتایا کہ ''مصر ،الجزائر،متحدہ امارات اور سعودی عرب نے ہمیں اسلحہ اور گولہ بارود دیا ہے لیکن ان کی ٹیکنالوجی پرانی ہے۔ہم یورپیوں سے یہ نہیں کہ رہے کہ آپ ہمیں زمینی دستے یا بمبار طیارے بھیجیں۔اگر ہمارے پاس مناسب فوجی سازوسامان ہو تو ہم سب انتظام کرلیں گے''۔