یمن: متحارب جماعتوں کے قائدین میں ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن کی مرکزی اسلامی جماعت الاصلاح نے اطلاع دی ہے کہ اس کے مرکزی قائدین نے شیعہ حوثی باغیوں کے لیڈر عبدالملک حوثی سے ملاقات کی ہے اور ان سے ملک میں جاری کشیدگی کم کرنے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا ہے۔

الاصلاح نے جمعہ کو جاری کردہ ایک بیان میں بتایا ہے کہ ان کے وفد نے حوثیوں کے لیڈر عبدالملک الحوثی سے جمعرات کو ملاقات کی تھی اور اس کا مقصد دونوں متحارب گروپوں کے درمیان کشیدگی کو کم کرنا تھا۔مبصرین اس ملاقات کو یمن میں گذشتہ دواڑھائی ماہ سے جاری بحران کے خاتمے کے لیے اہم قرار دے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ یمن کے شمال سے تعلق رکھنے والے حوثی شیعہ باغیوں نے 21 ستمبر سے دارالحکومت صنعا پر قبضہ کررکھا ہے۔انھوں نے سنی جماعت الاصلاح کی حامی ملیشیا اور قبائلیوں کو شکست دے دی تھی اور سرکاری فورسز کو مار بھگانے کے بعد اب وہاں تمام سرکاری عمارات اور شاہراہوں کا کنٹرول سنبھال رکھا ہے۔

حوثی اہل تشیع کے زیدی فرقے سے تعلق رکھتے ہیں لیکن ان کے مخالفین انھیں ایران کے آلہ کار قرار دیتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ یمن میں بھی ایران کی طرح کی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں۔تاہم حوثی اس الزام کی تردید کرتے ہیں۔انھیں یمن کے سابق صدر علی عبداللہ صالح اور ان کے حامیوں کی بھی مدد حاصل ہے۔

حوثیوں کو یمن کے دوسرے بڑے شہر تعز سمیت جنوبی شہروں میں اخوان المسلمون سے وابستہ الاصلاح کے حامیوں کی مزاحمت کا سامنا رہا ہے۔حوثی جنگجو دارالحکومت صنعا پر قبضہ کے بعد سے اپنی عمل داری ملک کے جنوبی شہروں کی جانب بھی بڑھانے کی کوشش کررہے ہیں۔

انھوں نے نومبر کے اوائل میں جنوب مغربی شہر ایب میں الاصلاح کے ہیڈکوارٹرز پر حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں تین افراد ہلاک ہوگئے تھے۔یمن کے وسطی علاقوں میں اہل سنت اور شیعہ حوثی باغیوں کے درمیان جھڑپوں میں اب تک بیسیوں افراد ہلاک اور زخمی ہوچکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں