"جوہری مذاکرات میں توسیع ایران کے لیے گھاٹے کا سودا ہے"

مرشد اعلیٰ کے مشیر مغٖرب سے معاہدےمیں ناکامی پر برس پڑے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران اور مغٖربی طاقتوں کے درمیان تہران کے متنازع جوہری پروگرام پر مذاکرات کی مدت میں سات ماہ کی توسیع کو ایران کے شدت پسند حلقے ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران پہلے ہی مغرب کی بہت سی شرائط مان چکا ہے، اس کے بعد معاہدے میں تاخیر کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے تھی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ناقدین میں سپریم لیڈر، رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ علی خامنہ ای کے مشیر خاص حسین شریعت مداری بھی پیش پیش ہیں۔ اگرچہ سپریم لیڈر خود اپنے ایک بیان میں واضح کر چکے ہیں کہ تہران اور مغرب کے درمیان جوہری تنازعہ پر مذاکرات کے لیے مزید سات ماہ کے اعلان انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے، لیکن ان کے مقرب خاص اور مشیر مسٹر حسین شریعت مداری نے اخبار’’کیھان‘‘ میں لکھے گئے اپنے مضمون میں جوہری مذاکرات کے التواء پر کڑی تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران کو اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے مسلسل پسپائی اختیار کرنا پڑی ہے اور اس کے بدلے میں تہران کو کچھ بھی حاصل نہیں ہو سکا ہے۔

مسٹر مداری مزید لکھتے ہیں کہ ’’ویانا میں ایران اور 5+1 کے درمیان ہونے والی بات چیت میں مذاکرات کے لیے مزید سات ماہ کا وقت مقرر کرنا ایران کے لیے گھاٹے کا سودا ہے کیونکہ ایران تو پہلے ہی اپنے مخالفین کے مطالبات پر بہت کچھ کھو چکا ہے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے جنیوا میں ہونے والے مذاکرات میں یورینیم افزودگی کی مقدار میں 20 فی صد کمی پر اتفاق کیا، اپنے جوہری سائنسدانوں کو مزید ریسرچ اور ڈویلپمنٹ سے روکا، ’آراک‘ ایٹمی ری ایکٹر میں بھاری پانی کی تیاری کم کر دی اور کئی دوسری تنصیبات میں بھی جوہری مواد کی تیاری محدود کر دی گئی۔ انہوں نے استفسار کیا اتنی پسپائی کے باوجود ایران کو کیا حاصل ہوا؟۔ ممکن ہے آپ کہیں کہ مغرب نے فلاں فلاں وعدے کئے لیکن خالی خیالی وعدوں کا کیا فائدہ جن میں سے کسی ایک عہد کو بھی ایفا نہیں کیا گیا۔

مرشد اعلیٰ کے مشیر کا کہنا تھا کہ چند ماہ پیشتر جنیوا میں ہونے والے معاہدے کے تحت ایران نے اپنا جوہری پروگرام بند کرنے پر اتفاق کیا۔ اس معاہدے کے بعد امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کانگریس کو یقین دلایا کہ وہ اپنے مشن میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کا سیٹری فیوج سسٹم پہلے والی پوزیشن پر اب واپس نہیں جا سکتا۔

شریعت مداری نے صدر حسن روحانی پر بھی شدید تنقید کی اور کہا کہ صدر روحانی کا خیال ہے کہ مرکزی سینٹری فیوج سسٹم اب بھی کام کر رہا ہے حالانکہ اسے تو کب جامد کیا جا چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مغرب نے ایران کے 4/2 ارب ڈالر کے منجمد اثاثے بحال کرنے کا وعدہ کیا۔ اس وعدے پر عمل تو درکنار تیل پر پابندیوں کی آڑ میں ایران کے مزید اربوں ڈالر کے اثاثے بھی منجمد کر لیے گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں