"رفسنجانی جوہری تنازع پرایران۔ سعودی عرب کشیدگی ختم کرائیں"

ایرانی شیعہ رہ نما کا سابق صدر سے مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسلامی جمہوریہ ایران میں اہل تشیع مسلک کے ایک سرکردہ رہ نما آیت اللہ وحید خراسانی نے سابق صدراور گارڈین کونسل کے موجودہ سربراہ علی اکبر ہاشمی رفسنجانی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تہران کے متنازعہ جوہری پروگرام کے حوالے سے سعودی عرب کو اعتماد میں لیں اور دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی ختم کرائیں۔

ایران کے فارسی میڈیا نے ہاشمی رفسنجانی کے ایک مقرب ڈاکٹر ھاشمی کاایک بیان نقل کیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ آیت اللہ وحید خراسانی متعدد مرتبہ سابق صدر رفسنجانی سے یہ مطالبہ کرچکے ہیں وہ ایران کے نیوکلیئر تنازع کے حل کے سلسلے میں جلد از جلد سعودی عرب کا دورہ کریں اوراپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے ریاض کو اعتماد میں لیں۔

ڈاکٹر ھاشمی کے مطابق آیت اللہ وحید خراسانی قم شہرمیں اہل تشیع کے ممتاز رہ نمائوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ آیت اللہ خراسانی نے حال ہی میں ایران کی آزاد یونیورسٹی کے چیئرمین ڈاکٹر حمید میرزادہ اور ان کے ہمراہ آئے ایک وفد سے ملاقات کے دوران بھی اپنا مطالبہ دوہرا۔

ذرائع کے مطابق علامہ وحید خراسانی نےکہا کہ ایران کو جوہری طاقت بننے کا حق حاصل ہے مگر اس کے نتیجے میں خطے میں کشیدگی کو فروغ نہیں ملنا چاہیے۔ ایسا نہ ہو کہ خطے میں ایٹمی ہتھیاروں کےحصول کے لیے ایک نئی دوڑ شروع ہوجائے۔ اس لیے بہتر ہے کہ سابق صدر علی اکبرہاشمی رفسنجانی سعودی عرب کے دورے پرجائیں اور ریاض حکومت کو اپنے جوہری پروگرام کے پرامن ہونے کے حوالے سے اعتماد میں لیں۔

خیال رہے کہ ایران میں سابق صدر اور شورائے نگہبان کے سربراہ علی اکبر ہاشمی رفسنجانی واحد شخصیت ہیں جنہیں سعودی عرب کا مقرب سمجھا جاتا ہے۔ پچھلے کئی ماہ سے یہ خبریں آتی رہی ہیں کہ وہ جلد سعودی عرب کا دورہ بھی کریں گے تاہم ابھی تک ان کے دورے کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ ایران میں صلح جو رہ نمائوں کی جانب سے باربار رفسنجانی کے دورہ سعودی عرب کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔ آیت اللہ وحید خراسانی بھی انہی رہ نمائوں میں شامل ہیں جن کا مطالبہ ہے کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کے لیے دو طرفہ رابطوں کا سلسلہ بحال کیا جانا چاہیے۔ آیت اللہ خراسانی کا کہنا ہے کہ علی اکبر ہاشمی واحد رہ نما ہیں جو سعودی عرب کو اعتماد میں لے سکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں