.

اسرائیل:غیرقانونی تارکین وطن کے خلاف مجوزہ بل منظور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی حکومت نے غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کارروائی کے لیے نئے قانون کے مسودے کی منظوری دے دی ہے۔اس سے پہلے اسرائیلی عدالت عالیہ نے حکومت کی جانب سے منظور کردہ قانون کو جابرانہ قرار دے کر کالعدم کردیا تھا۔

اسرائیلی کابینہ نے اتوار کو اپنے اجلاس میں اس بل کی اتفاق رائے سے منظوری دی ہے۔اب اس کو پارلیمان الکنیست میں بحث کے لیے پیش کیا جائے گا جہاں اس پر تین مراحل میں رائے شماری ہوگی اور منظوری کے بعد یہ قانون بن جائے گا۔

لیکن انسانی حقوق کے گروپوں نے نیتن یاہو حکومت کے اس اقدام کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اس نے عدالت عالیہ کے فیصلے کا مضحکہ اڑانے کی کوشش کی ہے۔اس سے اسرائیل میں سیاسی پناہ کے خواہاں افراد اور غیرقانونی تارکین وطن کے مسئلے کا صرف ایک عبوری حل تلاش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

اس نئے بل میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل میں جو کوئی بھی غیر قانونی طور پر داخل ہوگا،اس کو گرفتار کر لیا جائَ گا اور صحارونیم میں واقع حراستی مرکز میں تین ماہ تک زیر حراست رکھا جاسکے گا۔اس کے بعد اس مرد یا عورت کو حولوت میں واقع ایک اور حراستی مراکز میں منتقل کردیا جائے گا جہاں وہ بیس ماہ تک زیر حراست رہیں گے۔یہ دونوں حراستی مراکز اسرائیل کے جنوب میں واقع نیگیف صحرا میں قائم ہیں۔

مجوزہ بل میں دراندازوں کے لیے سخت سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔اسرائیلی حکومت مصر کی سرحد سے صہیونی ریاست کے علاقے میں در آنے والے غیر قانونی تارکین وطن کے لیے یہ اصطلاح استعمال کرتی ہے اور عام طور پر افریقی تارکین وطن جزیرہ نما سیناء سے اسرائیلی علاقے میں آجاتے ہیں۔ان میں زیادہ تری اری ٹیریا اور سوڈان کے باشندے ہوتے ہیں۔

اسرائیلی عدالت عالیہ نے 22 ستمبر کو غیر قانونی تارکین کے خلاف کارروائی سے متعلق نافذ قانون کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔اس کے تحت حکومت غیر قانونی طور پر سرحد پار کر کے آنے والے افراد کو مقدمہ چلائے بغیر ایک سال تک قید رکھ سکتی تھی۔عدالت نے حکومت کو حولوت میں واقع حراستی مرکز کو نوّے روز میں بند کرنے کا حکم دیا تھا۔وہاں اس وقت قریباً دو ہزار افریقی تارکین وطن قید ہیں۔

عدالت عالیہ نے ایک سال قبل بھی اس سے ملتے جلتے قانون کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔اس کے تحت حکومت غیر قانونی تارکین کو مقدمہ چلائے بغیر تین سال تک قید رکھ سکتی تھی۔اسرائیل میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی چھے مقامی اور بین الاقوامی تنظیموں کا کہنا ہے کہ عدالت اب اس مجوزہ قانون کو بھی کالعدم قرار دے دے گی۔انھوں نے مجوزہ بل کی مذمت کی ہے اور اسرائیلی کابینہ کی بل کی منظوری کے لیے تمام مشق کو ٹیکس دہندگان کی رقوم کا ضیاع قرار دیا ہے۔