.

تیونس: عسکریت پسندوں نے پولیس اہلکار کا سر کاٹ دیا

عسکری گروہ نے مقتول کے بھائی کو چھوڑ دیا، پولیس کی تصدیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عسکریت پسندوں نے مبینہ طور پر تیونس میں ایک پولیس اہلکار کا سر قلم کر دیا ہے۔ پولیس اہلکار بھائی کے ہمراہ الجزائر کی سرحد کے ساتھ اپنی نجی گاڑی میں سفر کر رہا تھا کہ اسے اتوار اور پیر کی درمیانی شب عسکریت پسندوں نے قابو کر لیا۔

پولیس ترجمان نے اس اہلکار کا عسکریت پسندوں کے ہاتھوں اگلی رات سر قلم کیے جانے کی تصدیق کر دی ہے، تاہم کسی عسکری گروپ نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کرنے کا ابھی تک اعلان نہیں کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ایک پولیس اہلکار ضلع طوائریف کے شہر الکیف میں سفر کر رہا تھا کہ عسکریت پسندوں کے ایک دس رکنی گروپ نے اسے روک کر قابو کر لیا۔

مقامی میڈیا کے مطابق بعد ازاں الکیف میں اس پولیس اہلکار کا سر کاٹ دیا گیا۔ البتہ اس کے بھائی کو چھوڑ دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس میں اس واقعے کا ذمہ دار عسکریت پسندوں کو قرار دیا گیا ہے۔

پولیس اہلکار کی بہیمانہ ہلاکت کا واقعہ ایک ایسے مرحلے پر پیش آیا ہے جب حکومت نے صدارتی انتخاب کے سلسلے میں عسکریت پسندوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کو مستعد کر رکھا ہے۔

واضح رہے تیونس میں انصار الشرعیہ سے وابستہ عسکریت پسند سر گرم ہیں۔ اس گروپ کو امریکا دہشت گرد گروپ قرار دیتا ہے، 2012 میں اسی گروپ نے امریکی سفارت خانے پر حملہ کیا تھا۔