.

اسرائیل: حکومتی اتحاد کی ٹوٹ پھوٹ، دو وزیر فارغ

مخالفت برداشت نہیں کر سکتا، بنجمن نیتن یاہو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اپنے وزیر خزانہ اور وزیر انصاف کو فارغ کر دیا ہے۔ ان وزراء نے اسرائیل میں قبل ازوقت انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا تھا۔

اسرائیل میں عام انتخابات میں طے شدہ شیڈول کے مطابق ابھی دوسال باقی ہیں۔ وزیر اعظم نے اپنے دو اہم وزیروں کو کابینہ سے نکالنے کے موقع پر خبردار کیا ہے کہ وہ اپنی مخالفت برداشت نہیں کریں گے۔

اسرائیلی وزیر اعظم نے دو تین دنوں میں سیاسی منظر نامے پر ایسی صورت حال پیدا کر دی ہے جو محض چند دن پہلے دیکھی نہیں جارہی تھی۔

ایک ٹی وی سے کیے گئے خطاب میں بنجمن نیتن یاہو نے کہا “میں وزیر خزانہ یائر لاپیڈ اور وزیر انصاف زیپی لیونی کی برطرفی کا حکم دے دیا ہے۔” ان فارغ کیے گئے دونوں وزیروں کا حکومتی اتحادی دو الگ الگ جماعتوں سے ہے، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ دونوں یاہو کے ناقدین میں شامل ہو گئے تھے۔

وزیر اعظم نے کہا وہ اسمبلی میں قانون سازی کے ذریعے حکومت اور پارلیمنٹ ختم کر کے جلد سے جلد نئے انتخابات کرا دیں گے۔

یاہو حکومت نے 2013 میں اقتدار سنبھالا تھا تاہم اسے اہم امور پر شروع سے ہی تنازعات کا سامنا رہا ہے۔ حتی کہ یاہو کی اپنی جماعت میں بھی سخت اختلافات پیدا ہو گئے ہیں۔

حکومت کو مغربی کنارے میں نئی یہودی بستیوں کی تعمیر کے چیلنج کے علاوہ ایسے مطالبات کا بھی سامنا ہے، جن میں عرب باشندوں سے نجات پانے کے لیے ملکی سرحدوں کا از سر نو تعین کرنے کا مطالبہ بھی شامل ہے۔

اسی دوران اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر پچاس دنوں کے لیے جنگ بھی مسلط کیے رکھی جس سے خود اسرائیلی معشت کو بھی نقصان برداشت کرنا پڑا۔ لیکن بجٹ کے ایشوز، امن عمل کا معطل ہوجانا، امریکا کے ساتھ تعلقات میں رخنہ آجانا اور اس طرح کے متعدد امور میں یاہو حکومت الجھی رہی ہے۔

اس دوران رہی سہی کسر اس قانون سازی نے نکال دی جو یاہو حکومت نے اسرائیل کو ایک یہودی ریاست قرار دینے کے لیے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس تجویز کی مخلفت کرنےوالوں کا موقف ہے کہ یہ فیصلہ عرب شہریوں کے حقوق اور جمہوری روح سے متصادم ہے۔