.

"اتفاق رائے کے بغیر تیل کی پیداوار میں کمی نہیں ہو گی"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے سابق انٹیلی جنس چیف شہزادہ ترکی الفیصل نے کہا ہے کہ ان کا ملک ’’اوپیک‘‘ اور روس سمیت تیل پیدا کرنے والے دیگر تمام ممالک اور اداروں سے اتفاق رائے کے بعد ہی اپنے تیل کی پیدوار میں کمی پر غور کرے گا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اپنے دورہ برطانیہ کے دوران لندن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شہزادہ الفیصل نے کہا کہ سعودی عرب نے پہلے ہی تیل کی پیدوار کم کر رکھی ہے۔ اس میں مزید کمی اس وقت کی جائے گی جب تیل پیدا کرنے والے دوسرے ممالک بھی اس پر عملاً متفق ہوں۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب عالمی منڈی میں تیل کے اپنے حصے سے دستبردار نہیں ہو گا۔ ریاض کی جانب سے پہلے تیل کی پیدوار میں کمی کر کے روس، نائیجیریا، ایران اور دنیا کے دوسرے ممالک کے گاہکوں کو فائدہ پہنچایا گیا ہے۔

شہزادہ الفیصل کا کہنا تھا کہ اگر تیل کی پیداوار میں کمی کی کوئی معقول تجویز پیش کی گئی اور دیگر پیدواری ممالک بھی اس پر متفق ہوئے تو ہم بھی غور کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ماضی میں بھی دوسروں کے کہنے پر تیل کی پیدوار کم کی لیکن تیل پیدا کرنے والے ممالک نے اس سے ناجائز فائدہ اٹھایا۔