.

القاعدہ ایرانی سفیر کے گھر پر بم حملے کی ذمے دار

کار بم دھماکے میں ایک یمنی شہری اور دو فوجی ہلاک،17 زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جزیرہ نما عرب میں القاعدہ نے یمن کے دارالحکومت صنعا میں ایرانی سفیر کی قیام گاہ پر کار بم حملے کی ذمے داری قبول کر لی ہے۔

یمن میں برسرپیکار اس دہشت گرد گروپ نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر جاری کردہ ایک مختصر بیان میں کہا ہے کہ ''آج (بدھ) صبح مجاہدین بارود سے لدی ایک کار کو ایرانی سفیر کے مکان کے نزدیک کھڑا کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے اور انھوں نے اس کو مقامی وقت کے مطابق صبح نو بج کر دو منٹ پر دھماکے سے اڑا دیا۔

یمنی سکیورٹی ذرائع اس بم دھماکے کو خودکش حملے کا نتیجہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس میں ایرانی سفیر اور سفارتی عملہ محفوظ رہاہے۔صنعا کے سفارتی علاقے ہدیٰ میں اس کار بم دھماکے کے وقت ایرانی سفیر حسن سید نام اپنے گھر میں موجود نہیں تھے اور وہ دس منٹ قبل سفارت خانے کے لیے روانہ ہوگئے تھے۔اس لیے وہ محفوظ رہے ہیں۔

عینی شاہدین کے مطابق کار بم دھماکے کے نتیجے میں ایرانی سفیر کے مکان میں ایک بڑا گڑھا بن گیا ہے اور اس سے عمارت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔میڈیکل ذرائع کے مطابق بم دھماکے میں ایک یمنی شہری اور دو فوجی مارے گئے ہیں اور سترہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ان میں زیادہ تر نزدیک واقع وزارت تیل کی عمارت میں کام کرنے والے ملازمین ہیں۔

واضح رہے کہ جزیرہ نما عرب میں القاعدہ نے قبل ازیں 9 اکتوبر کو صنعا میں حوثی باغیوں کے ایک چیک پوائنٹ پر بم حملے کی ذمے داری قبول کی تھی۔اس بم دھماکے میں سینتالیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

القاعدہ کی یہ شاخ ایران کی یمن میں مداخلت کی مخالف ہے اور اس نے ایران پر شیعہ حوثی باغیوں کی پشت پناہی کے الزامات عاید کیے ہیں۔حوثی باغیوں نے ستمبر سے دارالحکومت صنعا اور ملک کے شمالی شہروں پر قبضہ کررکھا ہے جبکہ ان کی یمن کے وسطی اور جنوبی شہروں میں اہل سنت یا القاعدہ کے ساتھ لڑائی ہورہی ہے۔

ایران کے نائب وزیر خارجہ حسین امیرعبدالالٰہیان نے ایک بیان میں یمن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دہشت گردی کی اس کارروائی میں ملوث افراد کا فوری سراغ لگا کر انھیں انصاف کے کٹہرے میں لائے اور سزا دے ۔