.

صدر اوباما عراق میں داعش کو پچھاڑنے کے لیے پُراعتماد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر براک اوباما نے اس اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ امریکا کی قیادت میں اتحاد عراق میں دہشت گردی کو پیچھے دھکیل سکتا ہے لیکن شام ایک وسیع اور طویل المیعاد مشکل مسئلہ ہے۔

انھوں نے یہ بات واشنگٹن میں کاروباری شخصیات کے ایک اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہی ہے۔ان سے قبل برسلز میں امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ ان کے اتحاد نے دولت اسلامی عراق وشام(داعش) کو فضائی مہم کے دوران سنگین نقصان پہنچایا ہے۔البتہ ان کا کہنا ہے کہ داعش کے خلاف یہ لڑائی کئی سال تک جاری رہ سکتی ہے۔

جان کیری نے برسلز میں داعش مخالف اتحاد میں شامل قریباً ساٹھ ممالک کے اجلاس کے موقع پر نیوز کانفرنس میں کہا کہ ''اب داعش کے لیے اپنی فورسز کو مجتمع کرنا،قافلوں کی شکل میں سفر کرنا اور مربوط حملے کرنامشکل ہوگیا ہے۔اب وہ اس خوف کے بغیر جارحانہ انداز میں آگے نہیں بڑھ سکتے ہیں کہ آسمان سے ان پر کیا آفت ٹوٹ پڑے گی''۔

انھوں نے واضح کیا کہ داعش کے خلاف یہ مہم طویل ہوسکتی ہے۔انھوں نے ایران کے عراق میں داعش پر مبینہ فضائی حملے کو ایک مثبت قدم قرار دیا۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ ''ایرانیوں کے ساتھ فوجی سرگرمی پر رابطہ کاری کے حوالے سے ہماری بنیادی پالیسی میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی ہے''۔

جان کیری نے اس امید کا اظہار کیا کہ خطے کے ممالک داعش سے واپس لیے جانے والے عراق کے علاقوں کی تعمیرنو کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ خطے کے بہت سے ممالک اس وقت تعمیرنو فنڈ سے متعلق بات چیت کررہے ہیں۔

انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ''امریکا نے شام اور ترکی کی سرحد کے درمیان علاقے میں بفرزون کے قیام کی حمایت کا کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔اس سلسلے میں بات چیت تو ہورہی ہے لیکن فی الوقت یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ہم بفر زون یا محفوظ زون کے قیام کے لیے کسی فیصلے تک پہنچنے والے ہیں''۔امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے اسی ہفتے ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ ترکی،شام سرحد پر ایک محفوظ زون کا قیام ممکن ہے۔

درایں اثناء فرانسیسی صدر فرانکو اولاند نے کہا ہے کہ فرانس عراق میں داعش کے خلاف تیزرفتاری سے موثر اقدامات کے لیے تیار ہے۔انھوں نے عراقی وزیراعظم حیدر العبادی کے ساتھ ایک مشترکہ نیوزکانفرنس میں کہا کہ ''ہم دہشت گردی کے خطرے سے متاثرہ عراق کی فوجی مدد کے لیے تیار ہیں''۔قبل ازیں عراقی وزیراعظم نے برسلز میں داعش مخالف اتحاد کے ممالک کے اجلاس میں کہا کہ ان کی مسلح افواج کو اسلحے ،ہتھیاروں اور تربیت کی شکل میں مدد کی ضرورت ہے اور اس سلسلے میں عراق نیٹو سے درخواست کرے گا۔