.

فلسطینی اتھارٹی درآمدی ٹیکسوں کے بوجھ تلے ہے: اقوام متحدہ

اس معاملے میں اسرائیل کے اثرات کم کرنے کی ضرورت ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کو 2011 کے دوران کسٹم اور سیلز ٹیکس کے حوالے سے کم از کم 310 ملین ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔ اس نقصان کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کو اسرائیل کے توسط سے اشیاء درآمد کرنا پڑیں۔

اقوام متحدہ نے اس صورت حال کو تبدیل کرنے کے لیے ٹھوس اور موثر تدابیر پر زور دیا ہے۔ اقوام متحدہ کی کانفرنس برائے برائے تجارت و ترقی کے مطابق یہ رقم فلسطینی اتھارٹی کی پیداواری شرح نمو کا تین اعشاریہ دس بنتی ہے۔

اس تناظر میں فلسطینی اتھارٹی کے لیے درآمدی قوانین کو تبدیل کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ یو این کے اس ادارے کی طرف سے یہ بھی کہا گیاہے کہ 1994 کے پیرس پروٹوکول کے تحت اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان معاشی بندوبست عدم استحکام اور غیر یقینی کا ذریعہ بن رہا ہے۔

اس لیے اس میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ کی اس کانفرنس کی طرف سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ دوسرے ملکوں کو براہ راست تجارت کا حق ملنا چاہیے اور اس معاملے میں اسرائیل کا حد سے بڑھا ہوا اثر کم کیا جانا چاہیے۔

واضح رہے اسرائیل کی طرف سے اکثر فلسطینیوں کو سزا دینے کے لیے فنڈز کی منتقلی منجمد کر دی جاتی ہے۔

اقوام متحدہ کی طرف سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسرائیل کا مرکزی بنک یہ ظاہر کرتا ہے کہ فلسطینی درآمدات کا 39 فیصد حصہ کسی تیسرے ملک سے آتا ہے۔ لیکن ان کی کلیرنس اسرائیل میں ہوتی ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق ایک اور مسئلہ اسرائیل کی سرحد کی طرف سے اشیاء کی سمگلنگ کا بھی ہے کیونکہ فلسطینی اتھارٹی کو اپنی سرحدوں کے حوالے اختیار عملی طور پر حاصل نہیں ہے۔

اقوام متحدہ نے اس فراہم کیے جانے والے اعداد و شمار کو حقائق کی درست اور مکمل عکاسی نہ کرنے والے قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان اعداد و شمار کو زیادہ جامعیت کے ساتھ مکمل کیا جائے تاکہ فلسطینی اتھارٹی کا نقصان روکا جا سکے۔