.

''اسرائیلی شہریوں کو بغیر ویزے کے امریکا آنے کی اجازت ''

امریکی کانگریس نے بل کی منطوری دے دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی کانگریس نے اسرائیل کے ساتھ دو طرفہ تعلقات اورتعاون کو مضبوط کرنے کے لیے بل کی منظوری دے دی ہے۔ اس منظور کیے گئے بل کے ذریعے اسرائیلیوں کو بغیر ویزے کے آزادانہ امریکا آنے کی اجازت ہو گی۔

اسرائیل کے لیے یہ سہولت اس کے باوجود ہو گی کہ وہ اپنے آپ کو ایک یہودی ریاست قرار دینے کے باعث عرب اور امریکی مسلمانوں کو اپنی سرزمین پر آنے سے روک دے۔

کانگریس سے اس بل کی منظوری مل جانے کے بعد اب صدر اوباما کے دستخطوں سے یہ بل ایک قانون بن جائے گا۔ کیونکہ امریکی سینیٹ اس بل کو متفقہ طور پر ماہ ستمبر میں پہلے ہی منظور کر چکا ہے۔

اس بل کی منظوری کے لیے کوششوں کو آگے بڑھانے والی سین باربرا نے کانگریس کی تعریف کی ہے کہ '' کانگریس نے ایک آواز کے طور پرمشرق وسطی میں امریکی اتحادی اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی کوشش کی ہے۔ ''

بل کی منظوری کے بعد ویزے کی شرط کے خاتمے کے علاوہ امریکا اور اسرائیل کی ہنگامی ضروتوں کے تحت سٹریٹجک پارٹنر شپ ایکٹ کی اہمیت بھی بڑھ گئی ہے۔ اسلحے سمیت توانائی ، پانی، سائبر سکیورٹی اور اندرونی سلامتی کے معاملات کے حوالے سے بھی امریکا اسرائیل تعاون میں بہتری ہو گی۔ عملا اسرائیل کو امریکا کی طرف سے اپنے پڑوسیوں کے مقابلے میں فوجی صلاحیت بڑھانے کےلیے امریکی تعاون پہلے سے بھی زیادہ ہو جائے گا۔

امریکی کانگریس کی طرف یہ بل تقریبا دو سال کی تاخیر سے منظور ہوا ہے، لیکن یہ ایک ایسےموقع پر منظور کیا گیا ہے جب امریکا اسرائیل تعلقات میں بعض معاملات پر دوستانہ ناراضگی کا تاثر ابھرا ہوا تھا۔

اس بل میں پائی جانے والی شقوں کی بنیاد پر کہا جاسکتا ہے کہ اسرائیل ان 38 ممالک میں شامل ہو جائے گا ، ہے جن کی اکثریت یورپی ملکوں پر مشتمل ہے۔

یہ سہولت بنجمن نیتن یاہو کی حکومت اوراسرائیل کی امریکا میں حامی لابی کے لیے غیر معمولی اہمیت کی حامل رہی ہے۔ لیکن اوباما انتظامیہ اور بعض با اثر سینیٹرز کی طرف سے کچھ تحفظات کی وجہ سے رکا ہوا تھا۔

ایک اہم اور حساس معاملہ اسرائیلی قوانین کی وجہ سے امریکی شہریت کے حامل فلسطینیوں اور امریکی عربوں کے اسرائیل میں داخلے پر قدغنوں کا تھا۔

سین باکسر اور اس بل کے دوسرے کٹر حامیوں نے اس بل میں سے زبان کی وجہ سے پیدا ہونے والی پیچیدگی کا ازالہ کر دیا ۔ دوسری جانب اوبا انتظامیہ نے اس حوالے سے ایک ورکنگ گروپ تشکیل دیا۔ جس کے بعد بل کی منظوری راہ ہموار ہو گئی۔

تاہم امریکی حکام کا کہنا کہ وہ یہ سہولت صرف اس ملک کو دیں گے جو ملک جوابی طور امریکی شہریوں کے لیے ایسی ہی سہولت دے گا اور شرائط پوری کرنے والا ہو گا۔