.

فرانس کا عراق میں 'بڑے' فضائی حملے کا دعوی

حملے میں دولت اسلامی 'داعش' کو نشانہ بنایا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانسیسی وزیر دفاع یونیوو لی ڈریان نے کہا کہ ہے ان کے لڑاکا جہازوں نے امریکی قیادت میں کئے جانے والے حملوں کے سلسلے میں عراق کے 'اندر' دولت اسلامی کے خلاف بڑی کارروائی کی ہے۔ یہ حملے ایک ایسے وقت میں کئے گئے ہیں جب اتحادی رکن ممالک فضائی حملوں کو اہداف کے خلاف کارگر قرار دے رہے ہیں۔

"لی ڈریان نے BFMTV کو بتایا کہ اس وقت بڑے حملے جاری ہیں، تاہم انہوں نے حملوں کا نشانہ بننے والے اہداف اور انہیں تباہ کرنے والے لڑاکا جہازوں کی تعداد سے متعلق تفصیل بتانے سے گریز کیا۔"

انہوں نے بتایا کہ اتحادی فوج کے حملوں کے آغاز سے ابتک متحدہ عرب امارات اور حال ہی میں اردن کے علاقے میں موجود فرانسیسی لڑاکا جہازوں نے تقریباً 120 سے 130 حملے کِئے ہیں۔

ان کارروائیوں میں کئی ایک خفیہ معلومات جمع کرنے کی غرض سے تھیں۔ امریکا کے مقابلے میں فرانس نے داعش کے عسکریت پسندوں پر بہت کم حملے کئے ہیں۔

دولت اسلامی 'داعش' کے جنگجووں کی جانب سے شمالی عراق میں بڑے پیمانے پر زمین پر قبضہ کر کے وہاں خود ساختہ خلافت کا اعلان کر دیا تھا جس کے بعد ان کی بیخ کنی کے لئے ساٹھ مغربی اور عرب ملکوں نے ملکر ایک اتحاد تشکیل دیا۔

شام میں داعش کے خلاف امریکی کارروائیوں میں فرانس ابتک شرکت سے انکار کرتا چلا آیا ہے، تاہم بدھ کے روز فرانسیسی صدر فرانسو اولاند نے اعلان کیا تھا کہ ان کا ملک عراق میں عسکریت پسندوں کے خلاف حملے تیز کرنے کو تیار ہے۔

اسی روز داعش کے خلاف برسلز میں اتحادی ممالک کے ایک اجلاس میں دعوی کیا گیا کہ اتحادی ملکوں کے فضائی حملے عراق اور شام میں مثبت نتائج پیدا کر رہے ہیں۔ آج بروز جمعہ کم و بیش یہی بات لی ڈریان نے بھی میڈیا گروپ سے بات کرتے ہوئے دہرائی۔

انہوں نے خبردار کیا کہ داعش کی پیش قدمی روکنے میں کامیابی کا مطلب جنگ کا خاتمہ نہیں۔

رواں ہفتے شامی صدر بشار الاسد نے فرانسیسی ہفت روزہ جریدے 'پیرس میچ' کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ اتحادیوں کے فضائی حملوں کا کوئی اثر نہیں ہو رہا ہے۔

لی ڈریان نے بشار الاسد کے بیان کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ جس ملک کے سربراہ نے اپنے ہی دو لاکھ شہری ہلاک کر دیئے ہوں، انہیں اپنے ضمیر کی ملامت محسوس کرنی چاہئے نہ کہ وہ دنیا کے سامنے اپنی کامیابی کے ڈونگرے برسائیں۔