.

انخلا کے بعد بھی افغانستان کے ساتھ رہیں گے: جرمنی

چانسلر اینجیلا مرکل کا افغان صدر اشرف غنی کے ہمراہ نیوز کانفرنس میں اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمن چانسلر اینجیلا مرکل نے عہد ظاہر کیا ہے کہ برلن حکومت نیٹو فوجی مشن کے بعد بھی افغان صدر اشرف غنی اور ان کی یونٹی حکومت کے ساتھ تعاون کا سلسلہ جاری رکھے گی۔

رواں برس کے اختتام تک مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کا تیرہ برس تک جاری رہنے والا فوجی مشن مکمل ہو رہا ہے جبکہ ساڑھے تین لاکھ افغان سکیورٹی اہلکار ملک کے متعدد علاقوں میں سلامتی کی ذمہ داری پہلے ہی سنبھال چکے ہیں۔ ناقدین کے بقول غیر ملکی افواج کے انخلاء کے بعد افغان سکیورٹٰی فورسز کو پہلی مرتبہ طالبان باغیوں کے حملوں کا براہ راست مقابلہ کرنا، ایک چیلنج سے کم نہ ہو گا۔

امریکا اور اس کے اتحادی ممالک نے کہا کہ نیٹو فوجی مشن کے بعد بھی افغانستان میں تقریبا بارہ ہزار غیر ملکی فوجی تعینات رکھے جائیں گے، جو وہاں افغان فوج کی مشاورت اور تربیت کے کام پر مامور ہوں گے۔

اس تناظر میں جرمن چانسلر اینجیلا مرکل نے برلن میں افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "افغانستان بالخصوص شمالی افغانستان میں سکیورٹی کو یقینی بنانے کی ذمہ داری جرمنی پر عائد ہوتی ہے۔"
اینجیلا مرکل کے بقول افغان سیکورٹٰی فورسز کو طویل المدتی بنیادوں تربیت فراہم کرنے کے علاوہ ترقیاتی امداد بھی دی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان کی خوشحالی کے لیے دونوں ممالک کے مابین باہمی تجارتی امور بھی اہمیت حاصل کرتے جا رہے ہیں۔

یاد رہے گذشتہ روز ہی جرمن پارلیمنٹ نے اس بات پر اتفاق رائے کیا کہ 2015ء میں بھی افغانستان مین ساڑھے آٹھ سو جرمن فوجی تعینات رہیں گے، جن کا بنیادی مقصد افغان دستوں کی تربیت ہو گا۔ یہ امر اہم ہے کہ آئندہ برس افغانستان میں تعینات غیر ملکی فوجیوں کی تعداد کے حوالے سے امریکا کے بعد جرمنی دوسرا سب سے بڑا ملک ہو گا۔ جرمن پارلیمنٹ میں یہ اتفاق بھی ہوا کہ برلن حکومت ترقیاتی مد میں افغانستان کو سالانہ بنیادوں پر 430 ملین ڈالر فراہم کرے گی۔

نیٹو اتحادی مشن کے تحت ایک وقت میں افغانستان میں جرمن فوجیوں کی تعداد پانچ ہزار بھی رہی تھی۔ اس طویل جنگ میں 55 جرمن فوجی ہلاک بھی ہوئے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ تیرہ سالہ اس طویل عسکری مہم میں 2014 کا سال خونریز ترین قرار دیا جا رہا ہے اور ایک ایسے وقت میں طالبان کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے، جب نیٹو فوجی مشن ختم ہو رہا ہے۔

مشترکہ پریس کانفرنس میں افغان صدر اشرف غنی نے کہا کہ افغانستان میں قیام امن کے لیے ان کی حکومت چین سمیت دیگر علاقائی طاقتوں کے ساتھ مذاکرات میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ یہ مذاکراتی عمل ابھی ابتدائی مراحل میں ہے لیکن ان کی کوشش ہے کہ افغانستان میں پائیدار امن اور خوشحالی کے لیے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ مل کر کام کیا جائے۔ انہوں نے اصرار کیا کہ وہ طالبان کے ساتھ مذاکراتی عمل کے حق میں ہیں اور ان کو معاشرے کے مرکزی دھارے میں لانے سے امن کی کوششوں کو تقویت ملے گی۔

اشرف غنی نے مزید کہا کہ وہ چین کی کوششوں کا انتہائی اہم سمجھتے ہیں کیونکہ بیجنگ حکومت کا پاکستان پر اثر و رسوخ ہے۔ غنی کے بقول، ’’چین ایک ذمہ دار فریق کے طور پر کردار ادا کر رہا ہے۔ علاقائی سطح پر قیام امن کے حوالے سے چین کا کردار اس لیے بھی اہم ہو گا کیونکہ اُسے بھی دہشت گردی کے خطرات کا سامنا ہے۔