.

یمن: امریکی صحافی رہائی کے لئے آپریشن میں ہلاک

سمرز کی بہن اور والدین کی اپیلیں اغوا کاروں کو رام نہ کر سکیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمنی ایوان صدارت کے ایک اعلی عہدیدار نے خبر رساں ادارے 'رائیٹرز' کو بتایا کہ القاعدہ کے ہاتھوں یرغمال امریکی صحافی لوکی سمرز جنوبی یمن کے علاقے شبوۃ میں اپنی رہائی کے لئے ہونے والے آپریشن کے دوران ہلاک ہو گیا۔ آپریشن شبوۃ گورنری کے علاقے وادی عبدان کی نصاب میونسپلٹی میں ہوا۔

امریکی ذرائع ابلاغ نے بھی واشنگٹن کے سرکاری ذرائع کے حوالے سے سمرز کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔ اس سے قبل لوکی سمرز کی سلامتی کے بارے میں متضاد اطلاعات آ رہی تھیں۔

یمنی وزارت دفاع نے اپنی ویب سائٹ پر اعلان میں دعوی کیا تھا کہ یمنی مسلح افواج کے ہفتے کو کئے جانے والے آپریشن میں امریکی فوٹو جرنلسٹ کو رہا کرا لیا گیا ہے، جس میں اسے یرغمال بنانے والے دس جنگجو ہلاک ہوئے۔

آنجہانی کی بہن نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ انہیں اپنے بھائی کی ہلاکت کی اطلاع ایک ایف بی آئی ایجنٹ کے ذریعے ملی۔

لوکی سمرز کو گذشتہ برس ستمبر کے مہینے میں یمنی دارالحکومت صنعاء سے اغوا کیا گیا جہاں وہ فری لانس فوٹو گرافر کے طور پریمن سے شائع ہونے والے اکلوتے انگریزی اخبار 'یمن ٹائمز' میں خدمات انجام دے رہے تھا۔

القاعدہ نے جمعرات کے روز 33 سالہ امریکی صحافی کی ایک ویڈیو جاری کی تھی جس میں ایک القاعدہ کمانڈر نے دھمکی دی تھی کہ تین دنوں کے اندر ان کے مطالبات پورے نہ ہوئے تو سمرز کو قتل کر دیا جائے۔ یاد رہے اغوا کاروں کے مطالبات ابھی تک سامنے نہیں آ سکے۔

اس سے قبل لوکی سمرز کی رہائی کے لئے پس پردہ کی جانے والی کوششوں کے علاوہ یرغمال صحافی کی بہن اور والد نے بھی اغوا کاروں سے اپنے تیئں اس کی جان بخشی اور رہائی کے لئے اپیلیں کی تھیں جو کارگر نہ ہو سکیں۔

بہن، والد کی ویڈیو اپیل

لندن کے کسی قریبی مقام سے پوسٹ کردہ ویڈیو اپیل میں یرغمال امریکی کی بہن لوسی نے اپنے بھائی کو 'پیار کرنے والا انسان' قرار دیتے ہوئے کہ "وہ لوگوں سے ہمیشہ اچھی امید رکھتا تھا۔" لوسی نے اپنی اپیل کا خاتمہ ان الفاظ میں کیا: "مہربانی کر کے اس کی جان بخشتے ہوئے رہا کر دیا جائے۔"

اپنے ایک بیان میں سمرز کے والد مائیکل نے اپنے لختِ جگر کو ’’یمن اور یمنی عوام کا ایک اچھا دوست قرار دیتے ہوئے اسکی رہائی کا مطالبہ کیا۔"

انکی بہن نے سمرز کے اغوا کاروں کے نام ویڈیو اپیل میں بتایا کہ ’’جس وقت غیر ملکیوں کو یمن چھوڑ کر اپنے ملکوں میں واپس جانے کے مشورے دیے جا رہے تھے تو میرے بھائی نے یہ کہہ کر واپسی سے انکار کر دیا کہ وہ یہاں خود کو اپنے جیسا محفوظ سمجھتے ہیں۔ ان محسوس ہوتا تھا کہ یمنی عوام اس کی دیکھ بھال کریں گے۔" لوسی کے بقول: "فوٹو جرنلزم کے ذریعے وہ یمنی عوام کی جدوجہد کو نمایاں کرتا چلا آ رہا تھا۔"

یرغمالی صحافی کے والد کا کہنا تھا کہ "ان کے بیٹے کو اپنی سادگی اور تمام یمنیوں سے ان کی ایمان دارانہ دوستی کی بنیاد پر یقین تھا کہ انہیں کوئی گزند نہیں پہنچائے گا۔"

سمرز کے والد کا مزید کہنا تھا کہ "ان کا بیٹا یمنیوں کی سخاوت اور مخلصانہ دوستی کے قصے سنایا کرتا تھا۔ یمن میں اس کے ساڑھے تین سالہ قیام کا خاتمہ اغوا کے بچائے اسے کوئی انعام دیکر ہونا چاہئے تھا۔ اس نے امریکا کے بجائے یمن میں مقیم رہنے کو ترجیح دی، جو بجائے خود اس بات کا بین ثبوت ہے کہ اس کی ہمدردیاں کس کے ساتھ تھیں۔ مہربانی کر کے لوکی سمرز کو بحفاظت ہم تک لوٹا دیں۔"

لوکی سمرز کے بھائی جارڈن اور ماں پاولا اس سے پہلے ویڈیو پیغامات میں ملتے جلتے جذبات کا اظہار کر چکے ہیں۔ القاعدہ ہی کی جانب سے جاری کردہ ایک وڈیو میں لوکی سمرز نے بتایا تھا کہ 'ان کی زندگی خطرے میں ہے۔'

پینٹاگان کی ناکامی

درایں اثنا پینٹاگان کی طرف سے اعتراف کیا گیا ہے کہ ایک ماہ قبل عسکریت پسند اغواء کاروں سے امریکی شہری کو چھڑوانے کی فوجی کارروائی ناکام ہو گئی تھی۔

پینٹاگان کے ترجمان رئیر ایڈمرل جان کربی نے اپنے ایک مختصر بیان میں کہا تھا کہ جب امریکی فوجی دستے نے امریکی شہری لوکی سمرز کو عسکریت پسندوں سے چھڑانے کے لیے آپریشن کیا تو عسکریت پسند سمرز کی جگہ تبدیل کر چکے تھے۔

دوسری جانب وائٹ ہاوس کی ترجمان برناڈیٹے میہان نے کہا ہے کہ امریکا ایک ایسی ویڈیو سے بھی آگاہ ہے، جس میں امریکی شہری سمرز کو دکھایا گیا ہے۔

وائٹ ہاوس کی ترجمان کے مطابق صدر اوباما نے سمرز اور دوسرے امریکیوں کی رہائی کے لیے پچھلے ماہ فوجی کارروائی کی اجازت دی تھی، لیکن افسوس کہ اس موقع پر سمرز کو بازیاب نہ کرایا جا سکا۔

میہان کے مطابق اپنے شہریوں کی بازیابی کے لیے یہ کارروائی یمنی حکومت اور فوج کے ساتھ کوآرڈی نیشن سے کی گئی۔ تاہم اغواء کاروں کے زیر حراست امریکی شہریوں کی حفاظت کے پیش نظر اس کارروائی کو خفیہ رکھا گیا تھا۔