.

ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیں گے: بائیڈن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی نائب صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ اسرائیلی سلامتی کے حوالے سے واشنگٹن کے عزم سے متعلق تمام شکوک و شبہات 'بیہودہ' باتیں ہیں۔

دارلحکومت واشنگٹن میں اسرائیل نواز 'سابان فورم' سے خطاب کرتے ہوئے جو بائیڈن کا کہنا تھا کہ ہمارے اور اسرائیلیوں کے درمیان موخر الذکر کی سیکیورٹی سے متعلق کوئی اختلاف نہیں۔

ایران سے متعلق امریکی موقف کے بارے میں بہت زیادہ بیہودہ باتیں سامنے آ رہی ہیں۔ مجھے دو ٹوک الفاظ میں واضح کرنا ہے کہ "ہم ایران کو نیوکلیئر ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیں گے۔ یہ مذاکرات کا منتہی ہے اور ہماری نگرانی میں ایسا کچھ نہیں ہونے والا۔"

ایران کو نیوکلیئر ہتھیار بنانے سے روکنے کے لئے کوشاں مغربی ممالک نے امسال نومبر میں مذاکرات کی ناکامی کے بعد گفت و شنید کو اگلے برس تیس جون تک توسیع دی ہے۔

جو بائیڈن نے بہ اصرار یہ بات کہی کہ "امریکا، اسرائیل اور مشرق وسطی کو نیوکلیئر اسلحے سے لیس ایران کے ڈراوے سے ہمیشہ کے لئے بچانے کا واحد طریقہ ایک ایسا سفارتی حل ہے کہ جس میں تہران کے ایٹمی پروگرام پر قابل تصدیق پابندیاں عاید کی جا سکیں۔"

اسرائیلی حکام امریکی قیادت میں ایران کے مشتبہ ایٹمی پروگرام کو محدود کرنے سے متعلق کوششوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے خبردار کرتے چلے آ رہے ہیں کہ ایران کی نئی اعتدال پسند قیادت براک اوباما انتظامیہ کو بیوقوف بنا رہی ہے۔

ادھر اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن معاہدے پر دستخط میں ناکامی کے بعد واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی جبکہ امریکا اور اسرائیلی حکام کی ذاتی حیثیت میں الزام تراشی سے صورتحال مزید گھمبیر ہو گئی۔ تاہم جو بائیڈن نے یہ بات زور دیکر کہی کہ ایسی تلخ کلامی کو باہمی تعلقات پر اثر انداز نہیں ہونے دیا جائے گا۔

"دوستوں کی طرح ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ اپنے درمیان تدبیراتی اختلافات سے نظر چرانے کے بارے ان پر ایمانداری سے بات کریں۔" بائیڈن نے کہا کہ ہمیں دوستوں کے درمیان معمول کے اختلافات سے زیادہ ان باتوں کو اہمیت نہیں دینی چاہئے۔

انہوں نے بتایا کہ ایرانی پالیسی کے 'ہر پہلو' پر اسرائیل کے ساتھ تفصیل سے بات ہوئی ہے۔ بائیڈن یہ بات زور دیکر کہی کہ ہمیں اپنے اختلافات کو صحیح تناظر میں رکھنا ہو گا کیونکہ انہیں ہماری امریکی اور اسرائیلی روح پر اثر انداز نہیں ہونے دینا چاہئے۔