.

''دنیا 1 لاکھ 80 ہزار شامی مہاجرین کی میزبانی کرے''

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالمی سطح پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کام کرنے والی تیس سے زیادہ تنظیموں نے دنیا کے ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ شامی تنازعے کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے قریباً ایک لاکھ اسّی ہزار مہاجرین کی میزبانی کریں۔

اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے (یو این ایچ سی آر) نے سوموار کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ ''اگر ممالک مزید ایک لاکھ اسّی ہزار شامی مہاجرین کا خیرمقدم کریں۔شامی مہاجرین کے لیے اپنے دروازے کھولنے والے دوسرے ممالک کو امدادی پیکج اور اقتصادی امداد دیں تو اس سے اس وقت شام میں موجود افراد کی بھی تنازعے سے جانیں بچا کر بیرون ملک منتقلی کے لیے حوصلہ افزائی ہوگی''۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ''شام کے پڑوسی ممالک نے گذشتہ ساڑھے تین سال کے دوران بڑی فراخ دلی کا ثبوت دیا ہے لیکن انفراسٹرکچر اور عوامی خدمات پر اس بحران کا کافی بوجھ پڑرہا ہے''۔

یو این ایچ سی آر کے زیر اہتمام منگل کو جنیوا میں ایک عالمی کانفرنس منعقد ہورہی ہے۔اس میں شامی مہاجرین سے متعلق مسائل پر غور کیا جائے گا۔واضح رہے کہ شام میں سنہ 2011ء کے وسط سے جاری خانہ جنگی کے دوران بتیس لاکھ افراد اپنا گھر بار چھوڑ کر پڑوسی ممالک میں جا چکے ہیں اور وہاں انھیں مہاجر کے طور پر رجسٹر کیا گیا ہے۔

شام کے دو پڑوسی ممالک ترکی اور لبنان میں اس وقت دس ،دس لاکھ سے زیادہ شامی رجسٹر مہاجر کے طور پر مہاجر کیمپوں یا خیمہ بستیوں میں رہ رہے ہیں۔یو این ایچ سی آر کے تخمینے کے مطابق سال 2015ء کے اختتام تک شامی مہاجرین کی تعداد بڑھ کر چھتیس لاکھ کے لگ بھگ ہوجائے گی۔