.

ابوظبی مال میں قتل ''انفرادی دہشت گردی کی کارروائی''

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے دارالحکومت ابوظبی میں شاپنگ مال میں ایک امریکی خاتون ٹیچر کے قتل میں کوئِی معروف دہشت گرد تنظیم ملوث نہیں تھی بلکہ یہ انفرادی دہشت گردی کی کارروائی تھی۔

یو اے ای کی سرکاری خبررساں ایجنسی وام نے ایک بے نامی سرکاری عہدے دار کے حوالے سے اتوار کو اطلاع دی ہے کہ ''ملزمہ کے اعترافی بیان،اس سے تفتیش اور جمع شدہ شواہد سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ انفرادی نوعیت کی دہشت گردی کی کارروائی تھی''۔

اس ذریعے کے مطابق:''اب تک ایسی کوئی چیز سامنے نہیں آئی ہے جس سے ملزمہ کا ایسی کسی دہشت گرد تنظیم یا سیاسی جماعت سے تعلق ثابت ہو کہ جس نے اس کو اس جرم کے ارتکاب کی شہ دی ہے''۔

اس ذریعے کا کہنا ہے:''تحقیقات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ملزمہ نے حال ہی میں بعض ویب سائٹس سے رجوع کیا تھا جہاں سے وہ دہشت گردی کی آئیڈیالوجی سے آگاہ ہوئی تھی اور اس نے دھماکا خیز مواد بنانا سیکھا تھا۔سکروٹنی سے یہ پتا چلا ہے کہ بم سازی میں استعمال کیا گیا مواد ابتدائی نوعیت کا تھا''۔

تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ اس ملزمہ کا کسی امریکی یا کسی اور غیرملکی کو قتل کرنے کا کوئی پکا منصوبہ نہیں تھا بلکہ وہ رنگ اور زبان کے لحاظ سے غیر ملکی نظر آنے والے کسی بھی شہری کو قتل کرنے کا ارادہ رکھتی تھی۔

واضح رہے کہ یو اے ای کی پولیس نے گذشتہ ہفتے ابوظبی کے ایک شاپنگ مال کے واش روم میں امریکی خاتون ٹیچر کو چاقو گھونپ کر قتل کرنے والی اس مشتبہ نقاب پوش عورت کو گرفتار کیا تھا۔مقتولہ کنڈر گارٹن ٹیچر کی شناخت آئبولیا ریان کے نام سے کی گئی تھی۔

اس یمنی نژاد ملزمہ کی عمر اڑتیس سال ہے۔اس نے گذشتہ سوموار کو امریکی خاتون کو قتل کرنے کے بعد یو اے ای میں مقیم ایک ڈاکٹر کے اپارٹمنٹ کے بیرونی دروازے پر بم بھی نصب کیا تھا۔اس بم کو ناکارہ بنا دیا گیا تھا اور اس سے کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا تھا۔

یو اے ای کی وزارت داخلہ نے گذشتہ جمعرات کو ایک فوٹیج جاری کی تھی۔اس میں پولیس کے ایک مکان پر چھاپے کی کارروائی دکھائی گئی تھی۔اس عورت نے پاجاما اور لمبی آستین والا کھلی قمیص پہن رکھی تھی۔پولیس اہلکار اس عورت کو گرفتار کرکے کسی نامعلوم مقام پر لے گئی تھی۔فوٹیج میں متعدد چاقو اور بم بنانے کا سامان دکھایا گیا تھا۔

ابوظبی میں امریکی خاتون کو چاقو گھونپنے کا یہ واقعہ عین اس روز پیش آیا تھا جس روز عراق اور شام میں برسرپیکار سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے ترجمان ابو محمد العدنانی کا ایک بیان انٹر نیٹ پر جاری کیا گیا تھا۔اس میں انھوں نے مسلمانوں پر زوردیا تھا کہ ''وہ کسی بھی طریقے سے مغربی باشندوں پر حملہ آور ہوں، خواہ یہ ان کے چہرے پر ایک چپت ہی کیوں نہ ہو''۔