.

بدعنوانی کا معاملہ سر عام زیر بحث لانے پر سپریم لیڈر برہم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے حکومت اور سرکاری اداروں میں پائی جانے والی مالی بدعنوانیوں، کرپشن اور رشوت ستانی کے معاملے کو سر عام زیر بحث لانے پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بدعنوانی کے خاتمے کے لیے اس پر سیمینار منعقد کرنے کی نہیں بلکہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے حال ہی میں نائب صدر اسحاق جہانگیری کو ایک مکتوب ارسال کیا ہے جس میں حکومت کی سر پرستی میں سرکاری اداروں میں ہونے والی بدعنوانی پر سیمینار منعقد کرنے کی سخت مخالفت کی ہے۔

خیال رہے کہ اتوار کو تہران میں سرکاری سطح پر ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں صدر حسن روحانی مہمان خصوصی تھے۔ اس سیمینار میں ملک میں تیزی سے پھیلتی کرپشن اور اس کے تدارک کے حوالے سے اعلیٰ حکومتی شخصیات نے بھی خطاب کیا۔

ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق خامنہ ای نے ریاست کے تین بڑے اداروں، حکومت، پارلیمنٹ اور عدلیہ پر زور دیا کہ وہ کرپشن کا معاملہ سر عام زیر بحث لانے کے بجائے انتظامی اور مالی بدعنوانی کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات کریں۔ انہوں نے کہا کہ مالی بدعنوانیوں کا خاتمہ موثر حکمت عملی وضع کرنے سے ہو گا اس کے لیے سیمینار منعقد کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

ایران کی موجودہ سیاسی صورت حال پر نظر رکھنے والے مبصرین کا خیال ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای سیکڑوں حکومتی افسران کی کرپشن میں ملوث ہونے کی خبروں سے سخت مایوس اور پریشان ہیں۔

بدقسمتی سے کرپشن میں ملوث افسران میں سابق صدر محمود احمدی نژاد کی حکومت میں شامل رہنے والے وہ افسران بھی شامل ہیں جو آیت اللہ خامنہ ای کے مقرب سمجھے جاتے ہیں۔ جبکہ ایرانی رہبر، احمدی نژاد کی حکومت کو کسی بھی دوسری حکومت سے زیادہ کرپشن سے پاک سمجھتے رہے ہیں۔

ادھر ایرانی صدر حسن روحانی نے قدامت پسند سیاسی حریفوں کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ قدامت پسندوں نے مال و دولت، اسلحہ اور ذرائع ابلاغ کو اپنی ذاتی جاگیر سمجھ رکھا ہے جس کے باعث ملک میں کرپشن کا ناسور تیزی سے پھیلتا چلا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ کرپشن اور لوٹ مار کی سیاست نے ایران کے اسلامی نظام کی بنیادوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ اگر کرپشن کا خاتمہ نہ کیا جا سکا تو یہ اسلامی انقلاب کے لیے سنگین خطرہ بن جائے گا۔