.

تشدد پسند امریکیوں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے انسداد دہشت گردی کے ایک اعلیٰ تحقیقات کار نے امریکا کے مرکزی خفیہ ادارے سی آئی اے کے زیر حراست افراد پر تشدد کے حربے آزمانے کی اجازت دینے والے تمام سینیر امریکی عہدے داروں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا مطالبہ کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے انسداد دہشت گردی اور انسانی حقوق سے متعلق امور کے ذمے دار خصوصی نمائندہ بن ایمرسن کا کہنا ہے کہ سی آئی اے اور امریکی حکومت کے دوسرے جن عہدے داروں نے زیر حراست افراد کو واٹر بورڈنگ اور دوسرے طریقوں سے تشدد کا نشانہ بنایا تھا،ان کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔

جنیوا میں بدھ کو جاری کردہ ایک بیان میں مسٹر ایمرسن نے کہا ہے کہ امریکی سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کی رپورٹ سے یہ واضح طور پر ظاہر ہورہا ہے کہ سابق بش انتظامیہ کے دور میں اعلیٰ سطح پر ایسی پالیسی اختیار کی گئی تھی جس کے تحت منظم انداز میں جرائم کے ارتکاب اور انسانی حقوق سے متعلق بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزیوں کی اجازت دے دی گئی تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ ''جو لوگ مجرمانہ سازش میں شریک تھے ۔انھیں ان کے جرائم کی نوعیت کے مطابق سزائیں دی جانی چاہیئِں''۔امریکی سینیٹ کی سراغرسانی پر سلیکٹ کمیٹی نے مرکزی خفیہ ادارے سی آئی اے کے تفتیشی حربوں سے متعلق منگل کو ایک دھماکا خیز رپورٹ جاری کی تھی۔

اس میں کہا گیا ہے کہ سی آئی اے نے بار بار اپنے تفتیشی حربوں کے حوالے سے امریکیوں کو گم راہ کیا تھا اور نائن الیون کے حملوں کے بعد خفیہ طور پر چلائے جانے والے تفتیشی پروگرام کا بھی غلط انداز میں استعمال کیا تھا۔

سینیٹ کمیٹی کی رپورٹ میں سی آئی اے کے دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کیے گئے مشتبہ افراد پر آزمائے گئے سفاکانہ تفتیشی ہتھکنڈوں کی تفصیل بیان کی گئی ہے اور یہ ہتھکنڈے اس سے کہیں زیادہ سفاکانہ معلوم دیے ہیں جتنا کہ یہ پہلے بیان کیے گئے ہیں۔اس رپورٹ میں کمیٹی نے کہا ہے کہ ایک سو سے زیادہ قیدیوں پر آزمائے گئے تفتیش کے حربے مؤثر نہیں تھے اور اس پروگرام کا انتظام بھی نامناسب انداز میں کیا گیا تھا۔

اس ضمن میں رپورٹ میں سی آئی اے کے پہلے زیر حراست شخص ابو زبیدہ کی مثال دی گئی ہے۔وہ سی آئی اے اہلکاروں کے تفتیشی حربے کے بعد مکمل طور پر بے حس وحرکت ہوگیا تھا۔اس کو مسلسل جگائے رکھا گیا تھا۔اس کے علاوہ سی آئی اے کے اہلکاروں نے زیر حراست افراد کے سر پر مسلسل ٹھنڈا پانی انڈیلنے کے علاوہ انھیں جنسی و جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا تھا اور انھیں طرح طرح کی اذیتیں دی تھیں۔