.

جی سی سی کی مشترکہ پولیس اور نیوی کے قیام کا اعلان

یمن اور شام میں جاری بحرانوں کے سیاسی حل پر زور، لیبیا میں تشدد کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) نے دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے اور علاقائی امن واستحکام کی خاطر انٹرپول کے طرز پر رکن ممالک کی علاقائی پولیس اور مشترکہ نیوی تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے۔ جی سی سی پولیس کا ہیڈ آفس ابوظبی میں ہو گا اور مشترکہ نیوی کا کمان مرکز بحرین میں قائم کیا جائے گا۔

قطر کے دارالحکومت دوحہ میں منگل کو رات گئے جی سی سی کے پینتیسویں سالانہ سربراہ اجلاس کے اختتام پر جاری کردہ اعلامیے کے مطابق کونسل کی مرکزی قیادت نے اپنے اپنے ملکوں کے وزرائے داخلہ کی جی سی سی پولیس اور مشترکہ نیوی کی تشکیل سے متعلق گذشتہ ماہ پیش کردہ تجاویز کی توثیق کی ہے اور اس امید کا اظہار کیا ہے کہ ابوظہبی میں قائم رکن ملکوں کی پولیس فورس سیکیورٹی کے میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کرے گی۔

قطری وزیر خارجہ شیخ خالد بن محمد العطیہ نے اجلاس کے اختتام پر نیوز کانفرنس میں بتایا ہے کہ پولیس فورس کے قیام سے دہشت گردی کے خلاف تعاون میں اضافہ ہوگا۔انھوں نے کہا کہ یہ انٹرپول طرز کی پولیس فورس ہوگی لیکن صرف جی سی سی کے رکن ممالک ہی میں کام کرے گی اور جی سی سی پول کہلائے گی۔

یمن،شام بحران کے سیاسی حل پر زور

جی سی سی کے سربراہ اجلاس کے اختتام پر پڑھے گئے اعلامیے میں بلاک کے لیڈروں نے یمن اور شام میں جاری بحرانوں کے سیاسی حل پر زور دیا ہے اور لیبیا میں بروئے کار ملیشیاؤں کی مذمت کی ہے۔انھوں نے لیبیا کی منتخب قومی کونسل کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کیا ہے۔

جی سی سی کے لیڈروں نے اس امید کا بھی اظہار کیا ہے کہ شام کے لیے اقوام متحدہ کے نئے امن ایلچی اسٹافن ڈی مستورا بحران کے جلد سیاسی حل میں کامیاب ہوں گے۔ اعلامیے میں جی سی سی کی قیادت کی جانب سے مصر میں سیاسی روڈ میپ اور صدر عبدالفتاح السیسی کی متفقہ طور پر حمایت کا اظہار کیا گیا ہے۔

اس موقع پر سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے اعلان کیا ہے کہ جی سی سی کا آیندہ سربراہ اجلاس الریاض میں ہو گا۔ قبل ازیں امیر قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے اپنے افتتاحی کلمات میں کہا کہ وہ انتہائی پیچیدہ علاقائی اور بین الاقوامی صورت حال میں یہ سربراہ اجلاس منعقد کر رہے ہیں۔ انھوں نے توقع ظاہر کی کہ یہ سمٹ جی سی سی کے رکن ممالک کے درمیان تعاون کی نئی راہیں کھولے گا۔

جی سی سی کے اس سربراہ اجلاس میں پڑوسی ملک ایران کے ساتھ تعلقات، یمن ،شام اور لیبیا میں جاری بحرانوں اور اقتصادی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ اجلاس میں بلاک کے تمام چھے رکن ممالک سعودی عرب، بحرین، کویت ،قطر، اومان اور متحدہ عرب امارات کے سربراہان مملکت وریاست اور وزرائے خارجہ شریک تھے۔

اس علاقائی بلاک کے رکن ممالک کی کل آبادی قریباً چار کروڑ ستر لاکھ نفوس پر مشتمل ہے اور ان میں بھی قریباً نصف تعداد غیر ملکی تارکین وطن کی ہے۔ خلیجی ریاستوں کے درمیان باہمی تعاون کو فروغ دینے کے لیے یہ تنظیم 1981ء میں قائم کی گئی تھی۔جی سی سی کے رکن ممالک دنیا کے خام تیل کے معلوم ذخائر کے 40 فی صد اور قدرتی گیس کے 25 فی صد ذخائر کے مالک ہیں۔