.

مسجد اقصیٰ میں دھماکے کا منصوبہ، امریکی کیخلاف فرد جرم

امریکی بحریہ کے سابق اہلکار ملزم سے بارود برآمد، اسرائیلی وزارت انصاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل میں ایک زیر حراست امریکی مسیحی پر مسجد اقصیٰ کو دھماکے سے اڑانے کا منصوبہ بنانے پر فرد جرم عاید کر دی گئی ہے۔ اس امر کا اعلان اسرائیلی حکام نے کیا ہے۔

اسرائیلی وزارت انصاف نے اس امریکی کی شناخت ایڈم ایوریٹ لیویکس کے طور پر کرائی ہے اور یہ خود کو امریکی بحریہ کا سابق اہلکار ظاہر کرتا ہے۔ تیس سالہ لیویکس کے حوالے سے اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ اس پر امریکا میں ہوتے ہوئے منشیات کے استعمال کے الزامات بھی رہے ہیں۔

اسرائیلی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ اس مسیحی امریکی نے اس سے قبل 2013 میں امریکی صدر اوباما کے اسرائیلی دورے کے موقع پر امریکی صدر کو ہلاک کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

اسرائیلی حکام کے دعوے کے مطابق اس امریکی بحریہ کے سابق اہلکار کو امریکی صدر کی ہلاکت کے لیے ایک فلسطینی نے کہا تھا۔

تاہم اب اس شخص کے خلاف مقبوضہ بیت المقدس میں مسلمانوں کے مقامات مقدسہ کو دھماکے سے اڑانے کے ایک منصوبے کے حوالے سے فرد جرم عاید کر دی ہے۔ اس پر یہ بھی الزام ہے کہ اس نے ویزا ختم ہونے کے بعد ایک سال سے زائد عرصے کے لیے اسرائیل میں غیر قانونی قیام کیا ہے۔

واضح رہے اسرائیلی پولیس نے اسے جب پچھلے ماہ ایک عمارت کی ساتویں منزل پر موجود اپارٹمنٹ سے گرفتار کرنے کی کوشش کی تو اس نے بھاگنے کی کوشش کی اور یہ کثیر المنزلہ عمارت کے عقب میں خالی جگہ کے راستے نیچے اتر گیا تھا۔

لیویکس کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ 2013 کے آغاز میں اسرائیل آیا تھا اور اس نے مغربی کنارے میں قیام کرنے کا فیصلہ کیا۔

اسرائیلی پولیس کے ترجمان مائیکی روزنفیلڈ کے مطابق اسی دوران جب مارچ 2013 میں اوباما اسرائیلی دورے پر آئے تو ایک غیر مسلح فلسطینی نے اسے اوباما کو سنائپر سے نشانہ بنانے کے لیے کہا ۔ لیکن بعد ازاں امریکی ادارے ایف بی آئی نے اس معاملے میں اس کے ملوث نہ ہونے کا کہہ دیا۔

بعد میں یہ امریکی مسیحی لیویکس اسرائیلی علاقے میں داخل ہوا۔ جہاں اس نے اپنے ایک اسرائیلی دوست کو بتایا کہ وہ عربوں کے سخت خلاف ہے۔ لیویکس نے اپنے اسرائیلی روم میٹ اور اسرائیلی فوجی سے تعاون کرتے ہوئے تقریبا سوا کلو بارود سکیورٹی حکام کے حوالے کر دیا۔

اسرائیلی حکام کے بقول یہ بارود اس نے نامعلوم مقدس مقامات کو نشانہ بنانے کے لیے رکھا ہوا تھا۔ اسرائیلی وزارت انصاف کے مطابق اس کے سامنے یہ معاملہ ماہ اکتوبر میں آیا تھا۔

امریکی مسیحی کے تباہ کن مبینہ منصوبے کی فرد جرم ایک ایسے وقت عاید کی گئی ہے جب مقبوضہ یروشلم میں غیر معمولی کشیدگی کا ماحول ہے۔ یہودی مسجد اقصی کے بارے میں اپنے عزائم کا اظہار کرتے رہتے ہیں اور مسلمانوں کے مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے میں رکاوٹ رہی ہے۔

خود اسرائیلی حکومت سے تعلق رکھنے والے بعض ذمہ دار لوگ بھی یہودیوں کے مسجد اقصیٰ میں جانے کی اجازت کی حمایت کر چکے ہیں۔ االبتہ بنجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ مسجد اقصیٰ کی موجودہ انتظامی نگرانی میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔

تاہم فلسطینی اس پیدا شدہ صورت حال اور حالیہ مہینوں میں پیش آنے والے واقعات کے بعد مسجد اقصیٰ کے مستقبل کے حوالے سے خوف کا شکار ہیں۔

واضح رہے ایک امریکی مسیحی کے جس مبینہ منصوبے کا ذکر آیا ہے ایسی ہی ایک کارروائی کا ارتکاب آسٹریلوی مسیحی 1969 میں مسجد اقصیٰ کو نذر آتش کر نے کی کوشش کر کے کر چکا ہے۔