.

امریکا: صحافی عدالت میں ذرائع بتانے کا پابند نہیں ہو گا

سی آئی اے کے سابق افسر کے خلاف مقدمے کی سماعت جلد متوقع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے ممتاز روزنامہ نیو یارک ٹائمز سے وابستہ انعام یافتہ صحافی کو عدالت میں اپنی مطبوعہ کتاب کے حوالے سے اپنے ذرائع کے بارے میں بتانے پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔

یہ بات امریکی عدالت کی طرف سے کیے گئے ایک حالیہ فیصلے کے حوالے سے عدالتی ذرائع نے بتائی ہے۔ عدالتی فیصلہ ابھی باضابطہ طور پر سامنے نہیں لایا گیا ہے۔

عدالت نے یہ فیصلہ آئندہ دنوں امریکی سی ائی اے ایک ذمہ دار کے خلاف مقدمے کی سماعت سے پہلے کیا ہے۔ مبینہ طور پر انعام یافتہ امریکی صحافی جیمز رائزن نے اپنی انکشاف انگیز کتاب ''سٹیٹ آف وار '' میں ایسے انکشافات کیے ہیں جن سے ملکی سلامتی سے متعلق حکمت عملی کی اطلاعات منظر عام پر آئی ہیں۔

جبکہ امریکی سی آئی اے کے ایک سابق ذمہ دار کو اسی طرح کے الزامات کے تحت آئندہ دنوں مقدمے کی سماعت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ 2006 میں شائع ہونے والی جیمز رائزن کی کتاب کو سی آئی اے کے حوالے سے بد نمائی کا باعث سمجھا گیا ہے۔

تاہم مذکورہ اخبار نویس کے عدالت میں حاضری کے لیے سمن جاری ہونے کے باوجود اس پر یہ پابندی عاید نہیں کی جائے گی کہ وہ اپنے خبری ذرائع کے بارے میں عدالت کو بتائے۔

امریکی محکمہ انصاف نے اس بارے میں پراسیکیوٹرز کو بھی کہہ دیا ہے کہ وہ اپنی رائے سے آگاہ کریں کہ انہوں نے جیمز رائزن سے بیان لینے کی تیاری کی ہے یا نہیں۔

بتایا گیا گیا ہے کہ معروف صحافی کے لیے عدالتی سمن کا مطلب صرف اسی ایک معاملے پر عدالت میں حاضری نہیں ہو گا کہ وہ اپنے ذریعہ خبر کا اظہار کرے بلکہ بعض دیگر معاملات پر بھی بات ہو سکتی ہے۔

سی آئی اے کے سابق ذمہ دار جیفری سٹرلنگ کے خلاف ماہ جنوری میں مقدمے کی سماعت شروع ہونے جا رہی ہے۔ یہ مقدمہ سابق صدر کلنٹن کے دور صدارت میں سی آئی اے کے ایرانی جوہری پروگرام کے لیے عزائم اور ارادوں کے منظر عام پر سامنے آنے کے حوالے سے ہے۔

اس سے پہلے ہی نہ صرف جیمز رائزن اپنے ذرائع کے بارے میں کچھ بولنے سے انکار کر چکا ہے ، بلکہ اس نے 2010 میں جیفری سٹرلنگ پر الزام عاید کرنے کے وقت گرینڈ جیوری کے سامنے کوئی ایسی گواہی بھی نہ دی تھی۔

یہ مقدمہ اس وجہ سے بھی لمبے عرصے سے التوا کا شکار رہا ہے کہ وکلاء کے درمیان یہ بحث چلتی رہی کہ آیا جیمز رائزن کو عدالتی کارروائی سے ایسا کوئی تحفظ حاصل ہے یا نہیں کہ وہ اپنے ذرائع کو عدالت کے سامنے نہ لائے۔

دریں اثناء امریکی اٹارنی جنرل نے کہا ہے کہ کسی رپورٹر کو اس کام کی وجہ سے جیل نہیں بھیجا جائے گا۔ اس کے باوجود اسے تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

2013 میں امریکی حکومت سے سختی سے اے پی کے ساتھ وابستہ صحافی کی طرف سے استعمال کیے گئے فونز کا ریکارڈ طلب کیا گیا تھا تاکہ اس کی یمن میں ایک امریکی کارروائی کے حوالے سے سٹوری کے ذرائع کا پتہ چلایا جاسکے۔

اسی طرح فاکس نیوز کے ایک رپورٹر کے حوالے سے بھی عدالت نے خفیہ طریقے سے ای میلز کا معاملہ اٹھایا تھا۔ لیکن اٹارنی جنرل نے ہولڈر نے اس معاملے کو الگ سے دیکھنے کا اشارہ دیا ہے۔ امریکی صحافی جیمز رائزن نے اس حوالے سے مزید معلومات اور ان کے رد عمل کے حصول کے لیے کی گئی ای میلز کا جواب نہیں دیا ہے۔