.

تیونس، لیبیا سرحد پر بڑی گذرگاہ بند

تیونس کا لیبیا کے متحارب جنگجو گروپوں کے درمیان لڑائِی کے بعد اقدام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس نے لیبیا کے ساتھ راس جدیر کے مقام پر واقع سب سے بڑی سرحدی گذرگاہ کو بند کردیا ہے۔تیونسی حکومت نے اتوار کے روز یہ اقدام اپنی سرحد کے ساتھ واقع اس علاقے میں لیبیا کے سابق جنرل خلیفہ حفتر کی وفادار فورسز اور اسلامی جنگجوؤں پر مشتمل فجر لیبیا کے درمیان خونریز جھڑپوں کے بعد کیا ہے۔ان میں کم سے کم تیس افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔

خلیفہ حفتر کی فورسز نے فجر لیبیا کے جنگجوؤں کے ساتھ لڑائی کے بعد دارالحکومت طرابلس سے ایک سو کلومیٹر مغرب میں واقع قصبے بوکماش سے لے کر راس جدیر کی سرحدی گذرگاہ تک علاقے پر کنٹرول کا دعویٰ کیا ہے۔

درایں اثناء لیبیا کے ایک عہدے دار نے بتایا ہے کہ شمالی بندرگاہ السدر کے نواحی علاقے میں لڑائی کے بعد تیل کی برآمد روک دی گئی ہے اور السدر بندرگاہ کے انتظام کی ذمے دار الواہا تیل کمپنی نے کام بند کردیا ہے۔تاہم اس بندرگاہ سے مشرق میں واقع راس لانوف کی بندرگاہ پر سرگرمیاں جاری ہیں اور ان میں کوئی خلل واقع نہیں ہوا ہے۔

لیبیا کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے جنگی طیاروں نے مخالف جنگجوؤں کی پیش قدمی کو روکنے کے لیے ہفتے کے روز مشرقی بندرگاہ راس لانوف اور السدر پر بمباری کی تھی جس کے نتیجے میں چار افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اس حملے کے بعد السدر بندرگاہ کو کارکنوں سے خالی کرا لیا گیا تھا۔السدر میں لیبیا کی تیل کی برآمدات کے لیے سب سے بڑا ٹرمینل قائم ہے اور یہاں سے روزانہ چارلاکھ بیرل سے زیادہ تیل برآمد کیا جاسکتا ہے۔

واضح رہے کہ لیبیا کے مشرقی شہر بن غازی اور دوسرے مشرقی شہروں اور قصبوں میں سابق بھگوڑے جنرل خلیفہ حفتر اور اسلامی جنگجو گروپوں انصار الشریعہ اور فجرلیبیا کے درمیان ستمبر سے خونریز لڑائی جاری ہے اور یہ دونوں گروپ ہی بن غازی اور دوسرے شہروں پر قبضے کے لیے کوشاں ہیں۔ان کے درمیان دارالحکومت طرابلس میں بھی لڑائی جاری ہے جہاں فجر لیبیا نے اپنا کنٹرول قائم کر رکھا ہے اور انھوں نے اپنی حکومت قائم کررکھی ہے لیکن اس کو عالمی برادری تسلیم نہیں کرتی ہے۔