.

سڈنی کیفے کا محاصرہ ختم،حملہ آور سمیت دو ہلاک

پولیس نے کیفے میں یرغمال افراد کو بہ حفاظت نکال لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آسٹریلیا کی پولیس نے سڈنی شہر میں ایک کیفے میں سولہ گھنٹے کے بعد یرغمال بنائے گئے افراد کو بازیاب کرالیا ہے اور پولیس کی اس کارروائی میں ایرانی نژاد مسلح حملہ آور سمیت دو افراد مارے گئے ہیں۔

پولیس کے ایک ترجمان نے کیفے میں جاری کارروائی کے خاتمے کی اطلاع دی ہے لیکن یہ نہیں بتایا ہے کہ وہاں لوگوں کو یرغمال بنانے والے مسلح شخص کے ساتھ ہلاک ہونے والا دوسرا شخص کون ہے اور آیا تمام یرغمالیوں کو بہ حفاظت نکال لیا گیا ہے یا ابھی کچھ اندر ہی موجود ہیں۔

پولیس نے سڈنی کے وسط میں واقع لنڈ چاکلیٹ کیفے میں باقی ماندہ یرغمالیوں کو بہ حفاظت نکالنے کے لیے مقامی وقت کے مطابق منگل کو علی الصباح دھاوا بولا ہے۔کیفے میں یرغمالیوں کی تعداد کے بارے مختلف اطلاعات سامنے آئی ہیں۔پولیس اہلکاروں کے کیفے میں کودنے سے پہلے وہاں پانچ چھے افراد عمارت میں چلتے ہوئے دیکھے گئے تھے۔پولیس افسروں نے اندر گھسنے کے بعد ایک عورت کو نکالا اور اس کے بعد دو افراد کو اسٹریچر پر ڈال کر باہر لے جایا گیا ہے۔

واضح رہے کہ ایک مسلح شخص نے سوموار کی صبح کیفے میں گھس کر وہاں موجود لوگوں کو یرغمال بنا لیا تھا۔مقامی میڈیا نے اس حملہ آور کی شناخت ایک ایرانی نژاد شخص کے طور پر کی ہے اور اس کا نام ہارون مونس بتایا ہے۔ماضی میں وہ جنسی حملے اور قتل سمیت مختلف الزامات میں ماخوذ رہا ہے۔

ایک پولیس افسر کا کہنا تھا کہ ''آپ کو اس پچاس سالہ مونس کو مسلح شخص کے طور پر شناخت کرنے میں کوئی غلطی نہیں کرنی چاہیے تھی۔آسٹریلوی پولیس کے محکمانہ قواعد و ضوابط کے تحت پولیس افسر باضابطہ نیوزکانفرنس تک اپنی شناخت نہیں بتا سکتے ہیں''۔

مونس ایک عرصے سے سرکاری راڈار کی نگرانی میں تھا۔گذشتہ سال اس کو افغانستان میں ہلاک ہونے والے آسٹریلوی فوجیوں کے خاندانوں کو جارحانہ خطوط لکھنے کی پاداش میں تین سو گھنٹے تک کمیونٹی کی خدمات انجام دینے کی سزا سنائی گئی تھی۔بعد میں اس پر اپنی سابقہ اہلیہ کے قتل میں معاونت کے الزام میں فرد جرم عاید کی گئی تھی۔2014ء کے اوائل میں اس پر سنہ 2002ء میں ایک عورت پر جنسی حملے کے الزام میں فرد جرم عاید کی گئی تھی۔تاہم اس کو بعد میں ضمانت پر رہا کردیا گیا تھا۔

اس کے وکیل مینی کونڈیٹسیس کا کہنا ہے کہ ''یہ ایک عام آدمی ہے ۔یہ کوئی دہشت گردی کی مربوط کارروائی نہیں ہے۔یہ بس اشیاء کو نقصان پہنچانے والا شخص ہے جو کوئی بھی شرمناک حرکت کر سکتا ہے''۔

آسٹریلوی پولیس کے بیسیوں اہلکاروں نے صبح پونے دس بجے کے قریب مارٹن پیلس میں واقع کیفے کا محاصرہ کر لیا تھا۔ پولیس نے پہلے تو سیڑھیوں کے ذریعے کیفے میں یرغمال بنائے گئے متعدد افراد کو نکال لیا تھا اور پھر مسلح شخص کے ساتھ موجود افراد کو بہ حفاظت نکالنے کے لیے کارروائی شروع کی تھی۔

سڈنی کے اس علاقے میں ریزرو بنک آف آسٹریلیا سمیت مختلف تجارتی بنکوں کے دفاتر واقع ہیں اور یہاں سے ریاست نیو ساؤتھ ویلز کی پارلیمان کی عمارت بھی نزدیک ہی واقع ہے۔ کیفے پر مسلح شخص کے حملے کے بعد بنک اور دوسرے سرکاری دفاتر بند کر دیے گئے تھے اور پولیس نے لوگوں کو اس علاقے سے دور رہنے کی ہدایت کی تھی۔

کیفے کے بالمقابل واقع ایک ٹیلی ویژن چینل کے دفتر سے اس مسلح شخص اور یرغمالیوں کی نقل وحرکت مکمل طور پر دیکھی جاسکتی تھی۔ایک آسٹریلوی صحافی نے بتایا ہے کہ اس حملہ آور نے پمپ ایکشن شاٹ گن پکڑ رکھی تھی۔اس کی ڈاڑھی بڑھی ہوئی تھی اور اس نے سفید قمیص اور سیاہ ٹوپی پہن رکھی تھی۔

اس حملہ آور نے یرغمال بنائے گئے لوگوں کو کیفے کی کھڑکیوں کے ساتھ لگا رکھا تھا اور انھیں مختلف ہدایات جاری کررہا تھا۔ٹی وی چینل کے عملے نے سوموار کی صبح کھڑکیوں کے ساتھ پندرہ مختلف چہرے دیکھے تھے۔پولیس کی کارروائی کے دوران صرف ایک شخص زخمی ہوا ہے اور اس کو اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ایک صحافی کے بہ قول وہ بھی زخمی نہیں ہوا ہے بلکہ اس کی طبیعت پہلے سے ہی خراب تھی اور اس کو بازیابی کے بعد اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔