.

آسٹریلیا:سعودیوں کی جانب سے سڈنی حملے کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آسٹریلیا میں حصول تعلیم کے لیے مقیم سعودی طلبہ نے سڈنی شہر میں ایک کیفے پر ایرانی نژاد مسلح شخص کے حملے اور وہاں سولہ گھنٹے تک لوگوں کو یرغمال بنائے رکھنے کی مذمت کی ہے۔

سعودی طلبہ اور آسٹریلیا میں مقیم سعودی شہریوں نے سوشل میڈیا کی ویب سائٹس پر سڈنی میں پیش آئے واقعے کی مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ایک طالب علم خالد العواد نے ٹویٹر پر لکھا ہے کہ ''آسٹریلیا میں جو کچھ ہوا ہے،اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔یہ اسلام کا کوئی ایسا امیج نہیں ہے کہ اس کو دنیا کے سامنے پیش کیا جاسکے''۔

ایک اور سعودی نے ٹویٹ کیا ہے کہ ''آسٹریلین بہت شریف النفس اور مہمان نواز ہیں۔یہ بہت ہی افسوس ناک ہے کہ یہاں اس طرح کا واقعہ رونما ہوا ہے''۔حمود ابو طالب نے ٹویٹر پر لکھا:''آسٹریلیا میں مقیم مسلمان لوگوں کو یرغمال بنانے کی مذمت کرتے ہیں''۔

خالد آل وابل نے سعودیوں کو ایک نصیحت کی ہے اور ان کے لیے لکھا ہے کہ ''وہ سوشل میڈیا پر مذاق نہ کریں بلکہ ہر لفظ کو لکھتے وقت محتاط رہیں کیونکہ انھیں اس کا جواب دہ ہونا پڑے گا''۔

درایں اثناء سعودی وزارت خارجہ نے آسٹریلیا میں مقیم سعودی شہریوں اور طلبہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ بہت محتاط رہیں اور وہ سڈنی کی صورت حال کے پیش نظر مشتبہ جگہوں پر جانے سے گریز کریں۔

واضح رہے کہ ایک ایرانی نژاد مسلح شخص نے سوموار کی صبح سڈنی کے وسط میں واقع لنڈ چاکلیٹ کیفے میں گھس کر وہاں موجود لوگوں کو یرغمال بنا لیا تھا۔مقامی میڈیا نے اس حملہ آور کا نام ہارون مونس بتایا ہے۔ماضی میں وہ جنسی حملے اور قتل سمیت مختلف الزامات میں ماخوذ رہا ہے۔آسٹریلوی پولیس نے سوموار اور منگل کی درمیانی شب سولہ گھنٹے کے بعد یرغمال بنائے گئے افراد کو بازیاب کرالیا تھا اور پولیس کی اس کارروائی میں ایرانی نژاد مسلح حملہ آور سمیت دو افراد مارے گئے تھے۔