.

سعودی عرب: فتویٰ موت کی دھمکیوں کا باعث بن گیا

احمد الغامدی کا فتویٰ عورتوں کا چہرے ڈھانپنے کے خلاف تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے محکمے کے صوبہ مکہ کے لیے کمشنر احمد بن قاسم الغامدی کی طرف سے خواتین کے چہرے کے پردے کے خلاف اور میک اپ کے حق میں دیے جانے والے فتوے کے بعد انہیں قتل کی دھمکیاں ملنا شروع ہو گئی ہیں۔

کمشنر احمد بن قاسم الغامدی نے چند دن پہلے اپنے ایک ٹی وی انٹرویو میں اپنی اہلیہ کو ساتھ بٹھا کر یہ فتویٰ دیا تھا کہ عورتوں کے لیے چہروں کو ڈھانپنا لازم نہیں ہے۔ انہوں نے خواتین کے گاڑی چلانے کے حق میں بھی رائے دی تھی۔

اس انٹرویو کے سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر ان کے خلاف سخت ریمارکس آنا شروع ہو گئے ہیں۔ احمد الغامدی اپنے متنازعہ فتووں کی وجہ سے قبل ازیں بھی ایسی بحثوں کا موضوع بنتے رہے ہیں۔ ان کے 2008 میں دیے گئے فتووں پر بھی کافی بحث ہوئی تھی۔

انہوں نے اس حوالے سے کہا '' لوگ مجھ پر الزام عاید کرتے ہیں کہ میرا کوئی خفیہ ایجنڈا ہے لیکن میرا کہنا یہ ہے کہ میں صحیح بات غلط وقت پر کہہ دیتا ہوں۔''

احمد الغامدی نے کہا یہ سب کچھ ایک خاتون کی وجہ سے ہوا جس نے پوچھا تھا کہ آیا وہ اپنے چہرے کی تصاویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کر سکتی ہے، میں جواباً کہا ہاں آپ کر سکتی ہیں اس کی ممانعت نہیں ہے۔''

ان کا مزید کہنا تھا کہ ''میں نے ایسی کوئی بات نہیں کہی ہے جو اس سے پہلے علماء نے نہ کہی ہو، عورتوں کیطرف سے اپنا چہرہ سامنے لانے کے طریقے ہو سکتا ہے آج تبدیل ہو گئے ہوں لیکن فتویٰ اپنی جگہ پر موجود ہے۔ ''

احمد الغامدی نے کہا تھا '' حجاب یہ نہیں کہ آپ چہرے پر کپڑے کا ٹکڑا لٹکا لیں بلکہ حجاب کا تعلق شرم اور حیا سے ہے، جب میری اہلیہ چہرہ کھول کر ٹی وی پر آتی ہے تو اس سے اس کی پاک دامنی پر حرف نہیں آ جاتا ہے۔''

انہوں نے یہ کہا ان کے علاقے کے دوسرے علماء نے ان کی رائے سے اتفاق نہیں کیا ہے لیکن اس کا انہیں کوئی نقصان نہیں ہے ان کا موقف ان کے ساتھ ہے۔

احمد الغامدی کا موقف ہے کہ ان پر تنقید کرنے والے اس وقت سے انہیں تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں جب سے انہیں صوبہ مکہ میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا کمشنر بنایا گیا ہے۔ '' وجہ یہ ہے کہ میں نے کئی منافقوں کو بے نقاب کیا ہے اور سچ سامنے لایا ہوں، بد قسمتی سے معاشرے نے اسلام داڑھی رکھنے اور سینڈل پہننے کو سمجھ لیا ہے۔ ''