.

یمن:کاربم دھماکا، 16 بچوں سمیت 30 جاں بحق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے وسطی شہر رداع میں ایک خودکش کار بم دھماکے کے نتیجے میں سولہ بچوں سمیت کم سے کم تیس افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔

یمن کے سکیورٹی ذرائع کے مطابق وسطی صوبے البیضاء میں واقع شہر رداع میں منگل کے روز ایک خودکش بمبار نے اپنی بارود سے بھری کار کے ساتھ حوثی باغیوں کے ایک لیڈر عبداللہ ادریس کے مکان پر حملہ کیا ہے۔اس دوران اسکول کی ایک بس بھی اس خودکش بم دھماکے کی زد میں آ گئی۔ایک میڈیکل ذریعے نے بم دھماکے میں چھبیس ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔

رداع میں ڈیڑھ ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں حوثی باغیوں پر یہ دوسرا بم حملہ ہے ۔جزیرہ نما عرب میں القاعدہ نے اس حملے کی ذمے داری قبول کی ہے اور حکام نے بھی یمن میں القاعدہ کی اس شاخ پر اس خودکش بم دھماکے میں ملوث کا الزام عاید کیا ہے۔

اس سے پہلے 12 نومبر کو ایک خودکش بمبار نے رداع میں ایک قبائلی سردار کی رہائش گاہ پر جمع افراد پر حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں متعدد افراد مارے گئے تھے۔اس شہر میں سنی اور اہل تشیع دونوں ہی آباد ہیں۔حوثی باغیوں نے اکتوبر سے اس کے بعض حصوں پر قبضہ کررکھا ہے اور اس کے بعد سے ان کی سنی قبائلیوں کے ساتھ جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔

واضح رہے کہ جزیرہ نما عرب میں القاعدہ نے 9 اکتوبر کو صنعا میں حوثی باغیوں کے ایک چیک پوائنٹ پر بم حملے کی ذمے داری قبول کی تھی۔اس بم دھماکے میں سینتالیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔القاعدہ کی یہ شاخ ایران کی یمن میں مداخلت کی مخالف ہے اور اس نے ایران پر شیعہ حوثی باغیوں کی پشت پناہی کے الزامات عاید کیے ہیں۔

حوثی باغیوں نے ستمبر سے دارالحکومت صنعا اور ملک کے شمالی شہروں پر قبضہ کررکھا ہے جبکہ ان کی یمن کے وسطی اور جنوبی شہروں میں اہل سنت یا القاعدہ کے جنگجوؤں کے ساتھ لڑائی ہورہی ہے۔حوثی باغیوں کو شمالی صوبے صعدہ سے دارالحکومت صنعا کی جانب چڑھائی کے دوران سکیورٹی فورسز یا سنی جنگجوؤں کی زیادہ مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا۔

لیکن اس کے برعکس ملک کے وسطی اور جنوبی صوبوں میں حوثیوں کو القاعدہ کے علاوہ سنی قبائلیوں کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا ہے اور اسی وجہ سے یمن کے زیادہ سے زیادہ شہروں کو اپنے زیرنگیں لانے کے لیے جنگی مہم کے تحت اب ان کی پیش قدمی رُک چکی ہے اور وہ اب یمنی سکیورٹی فورسز سے قبضے میں لیے گئے شہروں اور قصبوں ہی پر کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے کوشاں ہیں۔