.

دہشت گردی،پاکستانی عوام کے ساتھ ہیں:اوباما

کوئی بھی کاز اس سفاکیت کا جواز نہیں ہوسکتی ہے:بین کی مون

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر براک اوباما نے پاکستان کے شمال مغربی شہر پشاور میں آرمی کے زیر انتظام اسکول پر طالبان دہشت گردوں کے حملے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ امریکا پاکستان کی متشدد انتہا پسندی کے خلاف جنگ میں حمایت جاری رکھے گا۔

صدر اوباما نے منگل کو آرمی پبلک اسکول پر حملے کے ردعمل میں اپنے بیان میں کہا ہے کہ ''دہشت گردوں نے طلبہ اور اساتذہ پر یہ تباہ کن حملہ کرکے ایک مرتبہ پھر اپنی سفاکیت ظاہر کردی ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ''ہم پاکستانی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور امریکا کی جانب سے حکومتِ پاکستان کی دہشت گردی اور انتہا پسندی سے نمٹنے اور خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے کوششوں کی حمایت کا اعادہ کرتے ہیں''۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون نے بھی دہشت گردی کے اس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔انھوں نے سلامتی کونسل کے اجلاس کے آغاز میں اپنی تقریر میں پشاور میں اسکول کے بچوں پر دہشت گردوں کے حملے پر گلوگیر آواز میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ''دنیا کے دل اپنے پیاروں سے محروم ہوجانے والے والدین اور خاندانوں کے ساتھ ہیں''۔

انھوں نے کہا:''میں اس خوفناک حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔کوئی بھی کاز اس سفاکیت کا جواز نہیں ہوسکتی ہے۔اسکولوں کو سیکھنے کی محفوظ جگہیں ہونا چاہیے۔تعلیم حاصل کرنا ہر بچے کا حق ہے اور اسکول جانا کوئی بہادری کا فعل نہیں ہونا چاہیے''۔

بین کی مون نے اقوام متحدہ کی جانب سے پاکستانی حکومت کی دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف جنگ میں کوششوں کے لیے حمایت کا اظہار کیا ہے اور اسلام آباد حکومت پر زوردیا ہے کہ وہ اس قتل عام میں ملوّث افراد کو پکڑنے اور انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے۔

پشاور میں وارسک روڈ پر واقع آرمی پبلک اسکول پر منگل کی صبح طالبان دہشت گردوں کے اس حملے میں ایک سو اکتالیس افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔ان میں ایک سو بتیس بچے شامل ہیں اور نو عملے کے ارکان ہیں۔دہشت گردوں نے اسکول میں گھس کر جماعتوں کے کمروں میں کم سن طلبہ کو قریب سے گولیاں ماری ہیں۔پاکستانی سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کرکے تمام سات حملہ آوروں کو ہلاک کردیا ہے۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے اس اندوہناک واقعے کی ذمے داری قبول کی ہے اور اس کو قبائلی علاقوں میں جنگجوؤں کے خلاف پاک فوج کی بڑی کارروائی کا ردعمل قراردیا ہے۔ٹی ٹی پی کے ترجمان محمدعمر خراسانی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ آرمی پبلک اسکول پر حملہ شمالی وزیرستان میں طالبان جنگجوؤں اور ان کے خاندانوں کی ہلاکتوں کا بدلہ لینے کے لیے کیا گیا ہے۔

ملالہ یوسف زئی کا ردعمل

درایں اثناء برطانیہ میں مقیم نوبل امن انعام یافتہ پاکستانی طالبہ ملالہ یوسف زئی نے پشاور میں اسکول کے طلبہ پر دہشت گردوں کے بزدلانہ حملے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ بچوں پر حملے پر ان کا دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔انھوں نے برمنگھم سے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان کی حکومت اور مسلح افواج کے ساتھ ہیں۔

ملالہ یوسف زئی خود بھی بچیوں کی تعلیم کے لیے آواز اٹھانے پر دوسال قبل طالبان کے قاتلانہ حملے کا شکار ہوچکی ہیں۔وہ اس حملے میں شدید زخمی ہو گئی تھیں اور انھیں علاج کے لیے برطانیہ منتقل کردیا گیا تھا جہاں وہ صحت یابی کے بعد اب زیر تعلیم ہیں۔انھیں گذشتہ ہفتے ہی ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں منعقدہ ایک رنگا رنگ تقریب میں امن کا نوبل انعام دیا گیا تھا۔انھوں نے انعام میں ملنے والی رقم کو اپنے آبائی علاقے وادی سوات میں بچیوں کی تعلیم پر خرچ کرنے کا اعلان کیا تھا۔