.

امریکا کا فلسطین سے متعلق قرارداد 'ویٹو' کرنے کا اشارہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لندن میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری سے ملاقات کرنے والے فلسطینی وفد کے قریبی ذرائع نے بتایا ہے کہ امریکا کے اعلی سفارتکار نے فلسطینی وفد پر واضح کیا ہے کہ ان کا ملک اردن کی جانب سے حال ہی میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پندرہ رکن ممالک میں فلسطین کی تیارکردہ ایک قرارداد 'ویٹو کرنے کا حق استعمال' کر سکتا ہے جس میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ نومبر 2016ء کے اختتام تک فلسطینی سرزمین پر قبضہ ختم کر دے۔

ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط بتایا کہ فلسطینی مذاکرات کار صائب عریقات کی سربراہی میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری سے ملاقات میں اعلی امریکی سفارتکار کو بتایا کہ اگر واشنگٹن نے فلسطینی سے متعلق قرارداد ویٹو کی تو ایسی صورت میں وہ یو این کی تمام بین الاقوامی ایجنسیوں اور بین الاقوامی معاہدوں کی توثیق پر مجبور ہوں گے جن میں معاہدہ روم خاص طور پر شامل ہو گا جس کے بموجب فلسطین کو ہیگ کی بین الاقوامی جرائم عدالت میں شمولیت کا حق مل جائے گا۔

ذرائع کے مطابق فلسطینی وفد نے جان کیری کو آگاہ کر دیا ہے کہ فلسطینی فریق آج بروز [بدھ] یو این سیکیورٹی کونسل میں اپنی قرارداد وٹنگ کے لئے پیش کریں گے۔

یاد رہے کہ اس ملاقات سے قبل امریکی وزیرخارجہ جان کیری کا ایک بیان سامنے آیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ان کے ملک نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے سے متعلق ممکنہ قرارداد کے حوالے سے کوئی وعدہ نہیں کیا ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے سوموار کو جان کیری سے یہ یقین دہانی حاصل کرنے کی اطلاع دی تھی کہ امریکا فلسطینیوں اور یورپی ممالک کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے سے متعلق نظام الاوقات وضع کرنے کے لیے کوششوں کو بلاک کردے گا۔

جان کیری نے منگل کے روز لندن کے دورے کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''ہم نے زبان ، حکمت عملی ،مخصوص قراردادوں میں سے کسی سے متعلق کوئی وعدہ نہیں کیا ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ''نجی گفتگوؤں کی تفصیل بیان کرنے یا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تقسیم کی گئی مجوزہ قرار داد کے بارے میں قیاس آرائی کا یہ وقت نہیں ہے کیونکہ یہ قرارداد تو ابھی کونسل میں پیش ہی نہیں کی گئی ہے۔یہ اور بات ہے کہ اس کے حوالے سے بہت سے اعلانات کیے گئے ہیں''۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ بات اہم ہے کہ خطے میں درجہ حرارت کو کم کیا جائے تاکہ اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کو مطلوب امن کو تلاش کیا جاسکے لیکن موجودہ جوں کی توں صورت حال (اسٹیٹس کو) بھی دونوں فریقوں کے لیے ناپائیدار ہے''۔جان کیری نے کہا کہ ''اس وقت ہم ہرکسی سے تعمیری بات چیت کی کوشش کررہے ہیں تاکہ آگے بڑھنے کا کوئی بہتر طریقہ تلاش کیا جاسکے''۔

واضح رہے کہ بہت سے یورپی ممالک اس وقت اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان مذاکرات میں تعطل پر مایوسی کا شکار ہیں اور وہ اسرائیلی حکومت کے غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں پر جبروتشدد اور غرب اردن میں یہودی آباد کاری کے لیے اقدامات کو اس صورت حال کا ذمے دار قرار دے رہے ہیں۔

یورپی یونین مشرق وسطیٰ کے اس دیرینہ تنازعے کا مذاکرات کے ذریعے دو ریاستی حل چاہتی ہے اور اس کے رکن ممالک اس ضمن میں سلامتی کونسل کی ایسی قرارداد کی حمایت کا عندیہ دے چکے ہیں جس میں فلسطینی ریاست کے قیام اور اسرائیل کے فلسطینی علاقوں پر قبضے کے خاتمے کے لیے ایک نظام الاوقات وضع کیا گیا ہو۔تاہم امریکا فی الوقت ایسی کسی قرار داد کے حق میں نہیں ہے اور وہ ماضی میں بھی سلامتی کونسل میں صہیونی ریاست کے خلاف ہر طرح کی قراردادوں کو ویٹو کرچکا ہے۔