.

ترکی سے بھاری نقد رقوم ایران منتقلی کا انکشاف

اقدام کا مقصد تہران پر عالمی پابندیوں کا اثر زائل کرنا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حالیہ ایام میں ترک صحافیوں کےخلاف حکومتی کریک ڈائون کے تناظر میں ایک نئی دستاویزی فلم سامنے آئی ہے جس میں ایران پر عاید عالمی اقتصادی پابندیوں کو غیر موثر بنانے کے لیے ترکی سے بھاری نقد رقوم تہران منتقل کیے جانے کا انکشاف کیا گیا ہے۔

یہ دستاویزی فلم اخبار’’زمان‘‘ کی جانب سے جاری کی گئی ہے۔ چند روز پیشتر انقرہ نے اس اخبار کے چیف ایڈیٹر سمیت کئی اہم صحافیوں کو حراست میں لے لیا تھا۔ صحافیوں کی گرفتاریوں اور ایران کو بھاری رقوم کی منتقلی میں ترک وزراء اور اہم شخصیات کے ملوث ہونے کی رپورٹس میں ایک گہرا ربط موجود ہے کیونکہ انہی صحافیوں اور اخبارات نے گذشتہ برس بھی ایران کو بھاری رقوم کی منتقلی کی رپورٹس شائع کر کے ایردوآن حکومت کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ ان رپورٹس کے بعد اس وقت کے وزیر اعظم اور موجودہ صدر رجب طیب ایردوآن کی حکومت میں شامل کئی وزراء کو اپنے عہدوں سے ہاتھ دھونا پڑے تھے۔

اخبار ’’زمان‘‘ کی جانب سے جاری کردہ دستاویزی رپورٹ میں کاغذ کے مضبوط پیکٹوں میں مختلف ممالک کی کرنسیوں کی پیکنگ اور ان ڈبوں کو ترکی سے ایران منتقل کیے جانے کا انکشاف کیا گیا ہے۔ یہ سب کچھ ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام کے باعث تہران پر عاید عالمی اقتصادی پابندیوں کو غیر موثر بنانے کے لیے کیا گیا۔

خیال رہے کہ ایک سال پیشتر بھی ترک اخبارات نے ملک کے کئی نامور سیاست دانوں، تاجروں اور حکومتی شخصیات کے بارے میں رپورٹس دی تھیں کہ وہ ایران کو غیر قانونی طریقے سے کالے دھن کو سفید کرنے میں ملوث ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ترکی میں موجود دو سرکردہ ایرانی کاروباری شخصیات بابک زنجانی اور رضا ضراب کو حراست میں لیا گیا تھا۔ ارب پتی بابک زنجانی ابھی تک زیر حراست ہے۔ منی لانڈرنگ کیس منظر عام پر آنے کے بعد وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن نے کئی اہم حکومتی وزراء برطرف کر دیے تھے۔

حال ہی میں صدر رجب ایردوآن نے نہ صرف جوڈیشل اتھارٹی اور سیکیورٹی اداروں سے وابستہ اہم شخصیات کو ان کے عہدوں سے ہٹایا بلکہ جلا وطن مذہبی رہ نما عبداللہ گولن کی حمایت کی پاداش میں کئی اہم صحافیوں کو بھی حراست میں لے لیا ہے۔