.

رفسنجانی پر سپریم لیڈرکا منصب ’ہتھیانے‘ کی کوشش کا الزام

مرشد اعلیٰ علی خامنہ ای کے بھائی کی رفسنجانی پر کڑی تنقید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں ملک میں طاقت کے مراکز کے مابین اختیارات کے حصول کی کشمکش کے جلومیں سپریم لیڈرآیت اللہ علی خامنہ ای کے بھائی آیت اللہ محمد خامنہ ای نے الزام عاید کیا ہے کہ گارڈین کونسل (شورائے نگہبان) کے چیئرمین علی اکبر ہاشمی رفسنجانی سپریم لیڈر کا منصب حاصل کرنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔ نیز ان کے امریکا کے ساتھ خفیہ تعلقات بھی قائم ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق قدامت پسندوں کے مقرب جریدہ’’رمز عبور‘‘ کودیے گئے ایک انٹرویومیں محمد خامنہ ای نے دعویٰ کیا کہ ہاشمی رفسنجانی ملک کے طاقت کے مراکزکواپنے ہاتھ میں لینے کے لیے کوشاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رفسنجانی کی جانب سے سپریم لیڈر کےحصول کی ہاشمی کی مساعی وہ آگاہ ہیں۔ ان کے پاس اس دعوے کے ثبوت کے لیے ٹھوس شواہد موجود ہیں اور وقت آنے پروہ انہیں منظرعام پرلائیں گے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا علی اکبرہاشمی رفسنجانی کے امریکا کے ساتھ تعلقات کے کیا اسباب ومحرکات ہوسکتے ہیں؟ تو ان کا جواب تھا کہ ’’امریکا نے شروع میں مجاھدین خلق تنظیم اور سابق صدر ابو الحسن بنی صدر کے ساتھ اس لیے تعلقات قائم کر رکھے تھے تاکہ ان کے ذریعے ایران کے اندر کے سیاسی گروپوں سے تعلقات قائم کرنے کی راہ ہموار کی جاسکے۔ امریکا اپنی اس سازش میں ناکام ہوا۔ جب آیت اللہ بہشتی جیسی شخصیات نے بھی امریکیوں کو کوئی اہمیت نہ دی تو امریکا نے دوسری شخصیات تلاش کرلیں۔ ان دیگر شخصیات میں سابق صدر علی اکبر ہاشمی رفسنجانی بھی شامل ہیں۔

ایران گیٹ اسکینڈل

مرشد اعلیٰ کے بھائی محمد خامنہ ای نےبتایا کہ سنہ 1980ء کے عشرے میں جب عراق۔ ایران جنگ جاری تھی اس وقت کے امریکی صدر ریگن نے ایران کو عراق کے خلاف جدید اسلحہ مہیا کرنے کا وعدہ کیا۔ اس کے بدلے میں ایران کو لبنان میں یرغمال امریکیوں کو رہا کرانا تھا۔ یہ اسکینڈل’’ایران گیٹ‘‘ کے نام سے مشہورہوا۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ امریکا نے میک فارلین نامی ایک شخص کو ایلیچی بناکر ایران بھیجا جس کی میزبانی ہاشمی رفسنجانی نے کی۔ بعد میں یہ تمام تفصیلات رفسنجانی کے ایک دوسرے حریف آیت اللہ منتظری کے اقارب کی جانب سے سامنےآئیں۔ آیت اللہ منتظری بھی امریکا کے ساتھ خفیہ ساز باز کے حق میں تھے۔ منتظری اور ان کےحامیوں کو امریکی ایلچی کی رفسجانی سے ملاقات ناگوار گذری توانہوں نے سارا پول کھول دیا۔

محمد خامنہ ای کا کہنا ہے کہ میک فارلین کے دورہ ایران اور رفسنجانی سے ملاقات کا اصل مقصد ایران میں امریکی اثرو نفوذ کا قیام اور مستقل میں ایران کے اسلامی جمہوری نظام کا خاتمہ تھا۔آیت اللہ علی خامنہ ای کواس ساری سازش کا علم ہوگیا تو انہوں نے سازش ناکام بنا دی تھی۔

مرشد اعلیٰ کے عہدے کےحصول کے بارے میں محمد خامنہ ای کا کہنا تھا کہ علی اکبر ہاشمی رفسنجانی جب ملک کے صدر تھے تو یہ خبریں گردش کررہی تھیں کہ وہ تاحیات ملک کے صدر رہنا چاہتے ہیں۔ ان کی یہ خواہش بھی سپریم لیڈرآیت اللہ علی خامنہ ای نے ناکام بنادی۔

دیرینہ خواب

ایک سوال کے جواب میں آیت اللہ محمد خامنہ ای نے کہا کہ سابق صدر ہاشمی رفسنجانی کا تا حیات ملک کا صدر رہنا ایک دیرینہ خواب تھا۔ وہ امام خمینی کے انتقال کے بعد ملک کے سیاہ وسفید کے مالک بننا چاہتے تھے، لیکن ان کی امیدوں پر اس وقت پانی پھر گیا جب ماہرین کونسل نے آیت اللہ علی خامنہ ای کو ملک کا سپریم لیڈر منتخب کیا۔

ایک دوسرے سوال کے جواب میں محمد خامنہ ای نے کہا کہ اصلاح پسندوں اور ہاشمی رفسنجانی کے آج بھی امریکیوں کے ساتھ اچھے مراسم قائم ہیں۔ رفسنجانی کے وائیٹ ہائوس سے تعلقات کا اسکینڈل کوئی وقتی اقدام نہ تھا اورنہ یہ امریکی صدر اور ایرانی حکام کے درمیان راہ ورسم بڑھانے کی کوئی عارضی کوشش تھی بلکہ امریکا اب بھی ایران میں’’دراندازی‘‘ کے لیے راستوں کی تلاش میں ہے۔

خیال رہے کہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے بڑے بھائی79 محمد خامنہ ای اہل تشیع کے ایک سرکردہ عالم دین ہیں۔ تہران میں قائم’’ایران شناسی‘‘ کے نام ایک تھینک ٹینک اور ’’حکمت صدرا‘‘ فائونڈیشن کے چیئرمین ہیں۔ وہ ماضی میں ایران کی مجلس شوریٰ کے رکن اور قانون ساز کونسل کے ممبر بھی رہ چکے ہیں۔ سنہ 1979ء کے انقلاب ایران کے بعد وہ ایک انقلاب عدالت کے جج بھی رہے ہیں۔