.

شامی متاثرین کی امداد کے لیے سلامتی کونسل میں قرارداد

ووٹنگ آج ہو گی، شامی آبادی کا نصف حصہ بے گھر ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں آج بدھ کے روز شام کے جنگ زدہ لوگوں کی امداد کے پروگرام کو وسعت دینے کے لیے ووٹنگ کی جائے گی۔

یہ قرارداد امداد باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں میں پناہ لینے والے شامی پناگزینوں میں تقسیم کرنے کے پروگرام سے متعلق ہے۔ جو اسد رجیم کی منظوری کے بغیر دی جاتی ہے۔

قرارداد نمبر 2165 بنیادی طور پر 14 جولائی کو سال رواں میں منظور کی گئی تھی کہ ترکی، اردن اور عراقی سرحدوں کے راستے ٹرکوں کے ذریعے جنگ زدہ اہل شام تک خوراک، ادویات اور دوسری ضروری اشیاء پہنچائی جائیں۔

اب ماہ جنوری میں اس قرار داد کے موثر رہنے کی مدت ختم ہونے جا رہی ہے۔ اس لیے پندرہ رکنی سلامتی کونسل نے اس قرارداد کے موثر رہنے کی مدت میں توسیع کےلیے ووٹنگ کا فیصلہ کیا ہے۔ قرارداد کی منظوری کے بعد اس پر عمل درآمد دس جنوری 2016 سے ہو گی۔

سلامتی کونسل نے شامی متاثرین کے لیے امداد کی فراہمی میں پیش آنے والی رکاوٹوں پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔

قرارداد کے نئے مسودے میں کہا گیا ہے کہ "سرحدوں کے پار اور جنگ زدہ علاقوں کے درمیان امداد پہنچانے کے لیے اقوام متحدہ اپنے پارٹنرز امدادی اداروں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے تاکہ متاثرین کی امداد بڑھائی جا سکے۔"

واضح رہے ایک کروڑ بائیس لاکھ شامی شہریوں کو فوری امداد کی ضرورت ہے۔ ان میں سے چھہتر لاکھ ملک شام کے اندر ہی بے گھر ہونے والے شامی شہری ہیں۔ پنتالیس لاکھ وہ شہری ہیں جو دور دراز اور مشکلات سے بھرے علاقوں میں ہیں جبکہ دو لاکھ بارہ ہزار زیر محاصرہ علاقوں میں ہیں۔

شام میں خانہ جنگی اب چوتھے سال میں ہے۔ اس عرصے دوران دولاکھ سے زائد شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ جبکہ شام کی نصف سے زیادہ آبادی کو مجبوراً اپنے گھروں سے بے گھر ہونا پڑا ہے۔