.

نسل پرستی کے خلاف ابھی بہت کیا جانا ہے: اوباما

پہلے سیاہ فام امریکی صدر کے انٹرویو کے اقتباسات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پہلے سیاہ فام امریکی صدر براک اوباما نے ملک میں بعض جگہوں پر سفید فام پولیس اہلکاروں کی طرف سے سیاہ فاموں کے ساتھ رویے کے خلاف احتجاج کے ماحول میں ''پیپل میگیزین'' کے ساتھ اپنے انٹرویو میں نسل پرستی کے حوالے سے ایک نئی بحث کا آغاز کر دیا ہے۔

اس انٹرویو کے حوالے سے سامنے آنے والے اقتباسات میں براک اوباما نے کہا ہے '' نسلی تعصب کے بغیر تعلقات میں بہتری آئی ہے لیکن جتنی ضرورت تھی اتنا کام ابھی نہیں ہوا ہے۔''

امریکی صدر اوباما نے اس حوالے سے اپنی مثال دیتے ہوئے کہا ''یہ میرے ساتھ بھی روا رکھا جاتا ہے، میں ایک عشائیے میں عشائیے والا کوٹ پہنے موجود تھا کہ ایک شخص نے مجھے کافی لانے کے لیے کہا۔''

امریکی صدر نے مزید کہا'' میری عمرکا ایسا کوئی سیاہ فام پروفیشنل نہیں ہو گا جو ریستوران سے کھانا کھا کر باہر اپنی گاڑی کا انتظار کر رہا ہو اور کسی سفید فام نے اسے اپنی گاڑی کی چابیاں گاڑی پارک کرنے کے لیے نہ پیش کی ہوں۔''

امریکی صدر نے امریکا میں نسل پرستی کے حوالے سے اپنے انٹرویو میں ایک اور واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا'' امریکی خاتون اول مشعل اوباما کے ساتھ بھی ایسا ہی واقعہ ایک سٹور میں پیش آیا، ایک خاتون ان کے پاس آئی اور کہا شیلف سے فلاں چیزیں اتار دو۔''

گویا وہ خاتون اول کو صرف اس لیے سٹور پر کام کرنے والی اور اپنی خدمت کے لیے موجود سمجھ رہی تھی کہ یہ ایک سیاہ فام تھی۔

صدر اوباما نے کہا اس نوعیت کے واقعات نئی بات نہیں ہیں یہ واقعات عام طور پر ہوتے رہتے ہیں۔ اوباما کا جریدے کو دیا گیا یہ انٹرویو جمعہ کے روز شائع ہو گا۔

امریکا جہاں ان دنوں شہر شہر سیاہ فام عوام نسل پرستی کے خلاف احتجاج میں مصروف ہیں۔ ایسے میں وائٹ ہاوس میں موجود سیاہ فام امریکی صدر کا یہ انٹرویو غیر معمولی اہمیت کا حامل بن گیا ہے۔