.

یمن:سرکاری اداروں پر حوثیوں کی گرفت مضبوط

دوسری بڑی بندرگاہ اور سرکاری اخبار کے ایڈیٹر برطرف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں حوثی شیعہ باغیوں نے سرکاری اداروں پر اپنی گرفت مضبوط بنانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اور انھوں نے ملک کی دوسری بڑی بندرگاہ اور بڑی تیل کمپنی کے منتظمین کو برطرف کردیا ہے۔

یمن کی حدیدہ بندرگاہ کے حکام کا کہنا ہے کہ حوثی جنگجوؤں نے ڈائریکٹر کو کام سے روک دیا ہے اور وہ ان کی جگہ کسی اور کا تقرر کررہے ہیں۔بحیرہ احمر پر واقع اس بندرگاہ کے ذریعے ہی یمن بیرون ممالک سے اشیاء درآمد کرتا ہے۔

اس بندرگاہ کے ایک افسر نے ٹیلی فون کے ذریعے بتایا ہے کہ حوثی باغیوں کے اقدام پر عملہ سخت غصے میں ہے اور انھوں نے بندرگاہ کو بند کردیا ہے۔

درایں اثناء یمن کی سرکاری خبررساں ایجنسی سبا نے اطلاع دی ہے کہ حوثیوں نے ملک کے بڑے سرکاری اخبار الثورا کو بھی قبضے میں لے لیا ہے اور اس کے ایڈیٹر کو برطرف کردیا ہے۔سبا نے وزارت اطلاعات کے حوالے سے بتایا ہے کہ اخبار الثورا کے ہیڈکوارٹرز پر حوثیوں نے قبضہ کر لیا ہے اور انھوں نے یہ کام اخبار کی ادارتی پالیسی کو تبدیل کرنے کے لیے کیا ہے۔وزارت نے اس اقدام کو ننگی جارجیت اور پریس کی آزادی کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

اخبار کے حکام کا کہنا ہے کہ مسلح جنگجوؤں نے عمارت پر دھاوا بولا تھا اور انھوں نے چیف ایڈیٹر فیصل مکرم کو کرپشن کا الزام لگا کر نکال باہر کیا ہے۔

کم سے کم بیس حوثی جنگجوؤں نے صنعا میں سرکاری تیل کمپنی السفر کے دفاتر پر بھی اسی طرح دھاوا بولا ہے اس کے ڈائریکٹر اور ڈپٹی ڈائریکٹر کو زبردستی چلتا کیا ہے اور ان کے دفاتر کی تالا بندی کردی ہے۔

حوثی باغیوں نے سرکاری حکام کو برطرف کرنے اور ان کی جگہ اپنے آدمی مقرر کرنا کا سلسلہ ختم نہیں کیا ہے اور انھوں نے چار صوبوں کے گورنروں اور اور خصوصی فورسز کے کمانڈر کو بھی برطرف کردیا ہے۔